ہم اسرائیل کو دوبارہ جنگ شروع کرنے کا جواز نہیں دیں گے، سربراہ حماس
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
ہم اسرائیل کو دوبارہ جنگ شروع کرنے کا جواز نہیں دیں گے، سربراہ حماس WhatsAppFacebookTwitter 0 26 October, 2025 سب نیوز
سربراہ حماس خلیل الحیہ نےکہا امریکی صدر ہر روز کہہ رہے ہیں کہ جنگ ختم ہوگئی،اب ہم اسرائیل کو جنگ دوبارہ شروع کرنےکا جواز نہیں دیں گے،28 میں سے 17 یرغمالیوں کی لاشیں دے چکے،باقی کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔
حماس کےسربراہ خلیل الحیہ نے امریکی صدر کےبیان پرجواب میں کہا اسرائیلی انخلا اورجارحیت کےخاتمے تک ہتھیارنہیں ڈالیں گے،اسرائیلی انخلا کے بعد اسلحہ ریاست کےحوالے کردیں گے،ان کا کہناتھاکہ غزہ میں نئی انتظامیہ کےلیےکسی بھی قومی شخصیت پراعتراض نہیں۔
انھوں نےمزید کہاکہ اقوام متحدہ کی فورسز تعیناتی پرحماس اورالفتح میں اتفاق ہوچکا،معاہدے کی خلاف ورزیاں امن سمجھوتے کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور ختم، پاکستان نے طالبان کو دہشتگردی کی روک تھام کیلئے جامع پلان دیدیا ٹرمپ کا شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بھارت کی افغان طالبان کے ساتھ مل کر پانی روکنے کی کوشش، پاکستان نے دفاعی منصوبہ تیار کرلیا بلوچستان میں دہشتگردی پھر سر اٹھا رہی ہے،جائزہ لینا ہوگا کن وجوہات پر بدامنی پیدا ہوئی؟ وزیراعظم شہباز شریف عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر پی آئی اے کی پانچ سال بعد برطانیہ کیلئے پروازیں بحال، پہلی فلائٹ مانچسٹر روانہ پاکستان نے دہشتگردی اور خوارج کے خلاف مؤثر اقدامات کیے: ڈی جی آئی ایس پی آرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔