کراچی چڑیا گھر سے ریچھ رانو کو منتقل نہ کیا جا سکا
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
فوٹو: اسکرین گریب۔جیو نیوز
عدالتی حکم کے باوجود کراچی چڑیا گھر سے ریچھ رانو کو منتقل نہ کیا جا سکا، رواں ہفتے طیارے کے ذریعے اسلام آباد منتقلی کا امکان ہے۔
محکمۂ جنگلی حیات سندھ کا کہنا ہے کہ ٹرینرز ریچھ کو خود سے پنجرے میں آنے جانے کی تربیت دے رہے ہیں، اسلام آباد میں رانو کو قدرتی ماحول سے مانوس کیا جائے گا، پھر رانو کو جوڑی کے طور پر گلگت بلتستان منتقل کیا جائے گا۔
سندھ ہائی کورٹ میں کراچی چڑیا گھر سے مادہ ریچھ رانو کی محفوظ پناہ گاہ منتقلی سے متعلق فوری سماعت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
وکیل درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ 17 اکتوبر کو سرکاری حکام نے رانو کی منتقلی کیلئے دو ہفتوں کا وقت مانگا تھا۔ عدالت نے وزیر اعلیٰ سندھ کی قائم کردہ کمیٹی کو چڑیا گھر کے دورے اور جانوروں کی حالت سے متعلق رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ میں کراچی چڑیا گھر سے مادہ ریچھ رانو کی محفوظ پناہ گاہ منتقلی کے کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ 22 اکتوبر کو کمیٹی ارکان کو خط لکھنے کے باوجود تاحال کسی رکن کا جواب نہیں آیا ہے۔ ابھی تک رانو کی منتقلی کے لیے پنجرہ تیار نہیں ہوسکا۔ پنجرہ تیار ہونے کے بعد رانو کو مانوس ہونے میں بھی وقت لگے گا۔ اسلام آباد سے آئی ٹیم نے رانو کا معائنہ کیا ہے۔ ٹیم نے رانو کے جسم پر تین زخموں میں کیڑوں کی تصدیق کی ہے۔
جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم ہدایت دیتے ہیں آج چار بجے چڑیا گھر کے معائنے کے لیے جائیں جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں دن کی روشنی میں زیادہ سے زیادہ جانوروں کا معائنہ کیا جائے۔
عدالت نے کمیٹی اور مبصرین کو 2 نومبر کو چڑیا گھر کے دورے اور جانوروں کے معائنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ 6 نومبر تک دورے کے بعد رپورٹ پیش کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کراچی چڑیا گھر سے ریچھ رانو رانو کو رانو کی
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت