ایس آئی یو پولیس حراست میں نوجوان کی ہلاکت، تفتیش ایف آئی اے منتقل کرنیکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
ملزم سمیت مقدمے کا مکمل ریکارڈ پیر کو ایف آئی اے کے حوالے کیا جائے گا، جس کے بعد پیر سے ایف آئی اے کیس کی تفتیش کریگی۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں ایس آئی یو پولیس کی حراست میں نوجوان کی ہلاکت کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آگئی، تفتیش ایف آئی اے منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ پولیس حکام نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایس آئی یو کے اضافی چارج سنبھالنے والے ایس ایس پی اے وی ایل سی امجد شیخ کے مطابق کیس کی تفتیش ساؤتھ پولیس سے ایف آئی اے منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ انکے مطابق منصفانہ تحقیقات کیلئے کیس ایف آئی اے کے سپرد کیا جائے گا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ملزم سمیت مقدمے کا مکمل ریکارڈ پیر کو ایف آئی اے کے حوالے کیا جائے گا، جس کے بعد پیر سے ایف آئی اے کیس کی تفتیش کرے گی۔ واضح رہے کہ عرفان نامی نوجوان کو بدھ کے روز حراست میں لیا گیا تھا اور آئی او کی جانب سے جمعرات کے روز 7 بجے کے قریب اہل خانہ کو عرفان کی موت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا، تاہم واقعے کے مقدمے اور تفتیش پر عرفان کے اہل خانہ کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
ایس آئی یو پولیس کی حراست میں مبینہ تشدد سے نوجوان کی ہلاکت اور ورثا کی مدعیت میں مقدمہ درج نہ کرنے پر لواحقین نے گزشتہ روز سہراب گوٹھ کے قریب احتجاجی مظاہرہ کرکے دونوں ٹریک بند کر دیئے تھے۔ ایس ایچ او ایس آئی یو نے اپنی مدعیت میں صدر تھانے میں واقعے میں غفلت و لاپروائی کا مظاہرہ کرنے پر آئی او سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل خطا کا مقدمہ درج کروا دیا۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ ورثا کی مدعیت میں نوجوان عرفان کی ہلاکت پر قتل، اغوا اور دہشتگردی کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ ایس ایچ او ایس آئی یو کا کہنا تھا کہ ایس آئی یو پولیس نے ایک اے ایس آئی اور کانسٹیبل کو گرفتار کر لیا، جبکہ مقدمہ میں جو بھی نامزد ہیں، انہیں گرفتار کیا جائیگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایس ا ئی یو پولیس ایف آئی اے کی ہلاکت کا فیصلہ کیا جائے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔