33 سال بعد واشنگٹن کا جوہری تجربات بحال کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ امریکا ایک بار پھر جوہری تجربات دوبارہ شروع کرے گا۔
تاہم، جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ آیا اس میں روایتی زیرِ زمین تجربات بھی شامل ہوں گے جو سرد جنگ کے دوران عام تھے، تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔
’آپ کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا، لیکن ہم کچھ تجربات کرنے جا رہے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کو ایٹمی تجربات فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا
یہ باتیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہیں، جب وہ فلوریڈا کے پام بیچ جا رہے تھے۔
’دیگر ممالک ایسا کر رہے ہیں، اگر وہ کر سکتے ہیں تو ہم بھی کریں گے، ٹھیک ہے؟‘
جمعرات کو صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے امریکی فوج کو 33 سال کے وقفے کے بعد فوری طور پر جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ’حالیہ ہتھیاروں کے تجربات ایٹمی نہیں‘ ٹرمپ کے ایٹمی تجربات کے اعلان پر روس کا رد عمل
ان کے اس اقدام کو چین اور روس جیسے حریف جوہری ممالک کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ غیر متوقع اعلان صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اس وقت کیا جب وہ میرین ون ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر چینی صدر شی جن پنگ سے جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں تجارتی مذاکرات کے لیے جا رہے تھے۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر ٹرمپ کا اشارہ جوہری دھماکوں پر مبنی تجربات کی طرف تھا، جو نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن انجام دیتی ہے یا جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کی پرواز کے تجربات کی طرف۔
واضح رہے کہ پچھلے 25 سالوں میں شمالی کوریا کے 2017 کے تجربے کے سوا کسی بھی ملک نےکوئی جوہری دھماکا نہیں کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹروتھ سوشل جوہری دھماکا جوہری صلاحیت سرد جنگ شمالی کوریا صدر ٹرمپ فلوریڈا میرین ون ہیلی کاپٹر نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹروتھ سوشل جوہری دھماکا جوہری صلاحیت شمالی کوریا فلوریڈا میرین ون ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔