وزیر اعظم نے چترال میں دانش سکول کا سنگ بنیاد رکھ دیا، یونیورسٹی بھی قائم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
شہباز شریف نے یقین ظاہر کیا کہ چترال میں دانش سکول کا اگلے سال باضابطہ افتتاح کیا جائے گا۔ مقامی لوگوں کے مطالبے پر انہوں نے چترال میں گیس پلانٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز چترال میں دانش سکول کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سکول ڈیجیٹل لائبریریز، سمارٹ بورڈز اور کھیل کے میدان جیسی جدید سہولتوں سے آراستہ ہو گا جو علاقے کے مستحق طلباء کو مفت رہائش اور تعلیم کی سہولت فراہم کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ چترال میں دانش سکول غریب گھرانوں کے بچوں کیلئے معیاری تعلیم کے حصول کے حوالے سے ایچی سن کالج لاہور کے برابر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے اس سکول کے قیام کی درخواست نہیں کی تھی بلکہ یہ ان کی ذاتی خواہش تھی کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت دور دراز علاقوں کو ایسی تعلیمی سہولتیں مہیا کی جائیں۔ انہوں نے اس منصوبے کو وفاقی حکومت کی جانب سے چترال کے عوام کیلئے تحفہ قرار دیا۔ شہباز شریف نے یقین ظاہر کیا کہ چترال میں دانش سکول کا اگلے سال باضابطہ افتتاح کیا جائے گا۔ مقامی لوگوں کے مطالبے پر انہوں نے چترال میں گیس پلانٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بالائی چترال میں بجلی کے ٹیرف کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے گا۔عوامی مطالبے کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بالائی چترال میں ایک یونیورسٹی بھی قائم کرے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ علاقے میں بنیادی ڈھانچے کے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔