data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مظفر آباد/ اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوارالحق نے مستعفی ہونے کے لیے شرط عای د کردی، چودھری انوار الحق نے حامی وزراء اور اراکین اسمبلی کے لیے ترقیاتی فنڈز اور جاری منصوبوں کی گارنٹی مانگ لی ہے جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیرکیخلاف تحریک عدم اعتماد پر پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں ڈیڈ لاک ختم ہوگیا ہے اور ن لیگ نے قبل ازوقت انتخابات کی شرط پر وزیراعظم انوار الحق کے خلاف عدم اعتماد میں حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ آزادکشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کی مشاورت جاری ہے،ذرائع کے مطابق وزارت عظمیٰ کے لیے چودھری یاسین اور چودھری لطیف اکبر مضبوط امیدوار ہیں تاہم پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار کا نام تاحال فائنل نہیں کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوارالحق نے مستعفی ہونے کے لیے شرط عاید کردی۔ ذرائع کے مطابق چودھری انوار الحق نے حامی وزرا اور اراکین اسمبلی کے لیے ترقیاتی فنڈز اور جاری منصوبوں کی گارنٹی مانگ لی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری انوار الحق نے مطالبہ کیا ہے کہ ن لیگ کے وزرااور ٹکٹ ہولڈرزکوبھی آئندہ الیکشن سے قبل برابری کی بنیاد پرفنڈز دیے جائیں۔ ادھر وزیراعظم آزادکشمیر چودھری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں ڈیڈلاک ختم ہوگیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ ن لیگ نے قبل ازوقت انتخابات کی شرط پر وزیراعظم انوار الحق کے خلاف عدم اعتماد میں حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیا وزیراعظم آئینی عہدوں پر زیرالتواء تعیناتیاں کرا کے انتخابات کی راہ ہموارکرے گا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد ن لیگ کے وزراء مستعفی ہو جائیں گے اور مسلم لیگ ن عدم اعتماد میں ووٹ ڈالنے کے بعد اپوزیشن بینچز پر بیٹھے گی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم چودھری انوارالحق مستعفی نہ ہوئے توکسی بھی وقت تحریک عدم اعتماد لائی جائیگی۔ علاوہ ازیں آزادکشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کی مشاورت جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت عظمیٰ کے لیے چودھری یاسین اور چودھری لطیف اکبر مضبوط امیدوار ہیں تاہم پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار کا نام تاحال فائنل نہیں کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر کی وزارت عظمیٰ کے لیے امیدوار کا اعلان نہیں کیا اور انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں بھی نئے قائدایوان کے نام کی جگہ خالی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کا خصوصی ایلچی نئے وزیراعظم کے نام کا سیل بند خط لے کر مظفرآباد جائیگا، تحریک عدم اعتماد جمع کرانے سے قبل نئے قائد ایوان کا نام درج کیا جائیگا۔ وزیراعظم آزاد کشمیرکے خلاف تحریک عدم اعتماد میں نئے قائد ایوان کا نام لکھنا لازم ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد جمع کرانے سے قبل امیدوار کا فیصلہ کیا جائیگا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خلاف تحریک عدم اعتماد چودھری انوار الحق چودھری انوارالحق ذرائع کے مطابق الحق کے خلاف امیدوار کا ذرائع کا الحق نے کا نام کے لیے

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا