زرداری کی امیر قطر، چینی نائب صدر سے ملاقاتیں، پاکستان، سعودیہ دفاعی معاہدہ خوش آئند: شیخ تمیم
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
اسلام آباد، دوحہ (نمائندہ خصوصی+آئی این پی+نوائے وقت رپورٹ) صدر مملکت آصف علی زرداری نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی، نائب وزیر اعظم و وزیر دفاع شیخ سعود بن عبد الرحمان اور چینی نائب صدر ہان ژنگ سے دوحہ میں عالمی سماجی ترقی کانفرنس کے موقع پر الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ صدر نے امیر قطر کو حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ امیر قطر نے پاکستان اور سعودی کے عرب دفاعی معاہدے کو خوش آئند اور بروقت قرار دیا۔ صدر زرداری نے قطر میں دوحہ مذاکرات کی میزبانی اور افغانستان سے متعلق کردار کو سراہا جب کہ امیر قطر نے امید ظاہرکی کہ پاکستان افغانستان موجودہ مسائل حل کر کے چیلنجز پسِ پشت ڈال دیں گے۔ صدر مملکت نے دفاع، دفاعی پیداوار، زراعت اور غذائی تحفظ میں تعاون بڑھانے کی تجویز دی جس پر امیرقطر نے تعاون بڑھانے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری رابطوں کی ہدایت کی۔ صدر زرداری نے امیر قطر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جسے امیر قطر نے قبول کیا اور آئندہ سال کے اوائل میں پاکستان کا دورہ کرنے کا اعلان کیا۔ نائب وزیر اعظم و وزیر دفاع شیخ سعود بن عبد الرحمان کی صدر سے ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری اور پاکستانی سفیر بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں صدر زرداری کی دوحہ میں چین کے نائب صدر ہان ژنگ سے بھی ملاقات ہوئی۔ صدرِ مملکت نے سی پیک کے کامیاب نفاذ سمیت ہر مشکل گھڑی میں تعاون کرنے پر چین کا شکریہ ادا کیا۔ چینی نائب صدر نے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔