صدر زرداری کا دفاعی ٹیکنالوجی میں پاکستان، قطر تعاون کے فروغ پر زور
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
پاکستان اور قطر نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبوں میں اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ اتفاقِ رائے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور قطر کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن بن علی آل ثانی کے درمیان دوسری عالمی سماجی ترقی کانفرنس کے موقع پر دوحہ میں ملاقات کے دوران ہوا۔
مزید پڑھیں: صدر زرداری کی امیرِ قطر سے ملاقات، پاکستان اور قطر کے تاریخی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
صدر زرداری نے پاکستان اور قطر کے درمیان قریبی اور تاریخی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے مابین تربیت، استعدادِ کار میں اضافہ اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں تعاون قابلِ ستائش ہے۔
انہوں نے مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی ٹیکنالوجی اور ماہرین کے تبادلے میں مزید تعاون پر زور دیا، تاکہ علاقائی امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا وژن دوحہ اعلامیہ کی روح سے ہم آہنگ ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری
قطر کے نائب وزیرِاعظم نے پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور مشترکہ دفاعی پیداوار اور منصوبوں کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قطر افغان امن و استحکام کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
صدر زرداری قطر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔