پاکستان نے پاسپورٹ سے اسرائیلی شق کے خاتمے کا بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھارتی میڈیا کی اس جھوٹی خبر کو سختی سے مسترد کردیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی پاسپورٹ سے ’اسرائیل کے لیے ناقابلِ استعمال‘ کی شق ختم کردی گئی ہے۔
بھارتی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلائے جانے والے اس پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستانی پاسپورٹ میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اس میں بدستور یہ عبارت درج ہے کہ ’’یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوا تمام ممالک کے لیے قابلِ استعمال ہے‘‘۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی یہ خبر پاکستان کے مؤقف کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا مؤقف اسرائیل کے حوالے سے ہمیشہ دو ٹوک اور غیر متزلزل رہا ہے۔
ڈی جی پاسپورٹس نے بھی تصدیق کی کہ پاسپورٹ کے متن میں کسی قسم کی ترمیم نہیں کی گئی۔ اسی طرح وزارتِ اطلاعات نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نہ تو اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی فوجی یا سفارتی تعاون پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ پاکستان
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔