یورپی کونسل کے سربراہ کا ایران کیساتھ سفارتکاری کے تسلسل پر زور
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
انٹونیو گوسٹا سے اپنی ایک ملاقات میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہم یورپی ممالک سمیت دنیا بھر کے ساتھ مفادات اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات بہتر بنانے کے خواہشمند ہیں، لیکن صیہونی رژیم نے میرے دور حکومت کے پہلے دن سے ہی اس راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر یورپی کونسل کے صدر "انٹونیو گوسٹا" نے ایک ٹویٹ پوسٹ کی، جس میں انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر "مسعود پزشكیان" کے ساتھ اپنی ملاقات كی خبر دی۔ اس موقع پر انہوں نے یوکرین جنگ میں ایران کی فرضی مداخلت اور تہران کے پُرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں اپنے بے بنیاد سیاسی دعووں کو دہرایا۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے بات چیت جاری رکھنا ضروری ہے۔ یورپی عہدیدار نے موجودہ جوہری معاہدے (JCPOA) کی حالیہ صورتحال کے ذمہ داروں کا تعین کئے بغیر کہا کہ نیویورک میں جاری جوہری مذاکرات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے ایرانی صدر سے درخواست کی کہ وہ باوجود اس کے کہ بہت زیادہ دیر ہو چکی ہے، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔ دوسری جانب ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کبھی بھی کسی جنگ یا تنازعے کا خواہاں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تعمیری و دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔ ہم مسائل، رکاوٹوں اور خدشات کو دور کرنے کے لئے بات چیت و افہام و تفہیم کے لئے تیار ہیں تا کہ اختلافات کو ہوا نہ دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایران واضح طور پر اعلان کر چکا ہے اور کر رہا ہے کہ وہ کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کا خواہشمند نہیں۔ ہم اس سلسلے میں افواہوں کو غلط ثابت کرنے اور مثبت تعاون کے لئے تیار ہیں۔ موجودہ صورتحال کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی اور جوہری معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہو گئے۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ الیکشن مہم کے دوران میرا منشور، ایران میں قومی مفاہمت اور دنیا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا تھا۔ ہم یورپی ممالک سمیت دنیا بھر کے ساتھ مفادات اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات بہتر بنانے کے خواہشمند ہیں، لیکن صیہونی رژیم نے میرے دور حکومت کے پہلے دن سے ہی اس راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ کے لئے
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔