انٹونیو گوسٹا سے اپنی ایک ملاقات میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہم یورپی ممالک سمیت دنیا بھر کے ساتھ مفادات اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات بہتر بنانے کے خواہشمند ہیں، لیکن صیہونی رژیم نے میرے دور حکومت کے پہلے دن سے ہی اس راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر یورپی کونسل کے صدر "انٹونیو گوسٹا" نے ایک ٹویٹ پوسٹ کی، جس میں انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر "مسعود پزشكیان" کے ساتھ اپنی ملاقات كی خبر دی۔ اس موقع پر انہوں نے یوکرین جنگ میں ایران کی فرضی مداخلت اور تہران کے پُرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں اپنے بے بنیاد سیاسی دعووں کو دہرایا۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے بات چیت جاری رکھنا ضروری ہے۔ یورپی عہدیدار نے موجودہ جوہری معاہدے (JCPOA) کی حالیہ صورتحال کے ذمہ داروں کا تعین کئے بغیر کہا کہ نیویورک میں جاری جوہری مذاکرات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے ایرانی صدر سے درخواست کی کہ وہ باوجود اس کے کہ بہت زیادہ دیر ہو چکی ہے، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔ دوسری جانب ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کبھی بھی کسی جنگ یا تنازعے کا خواہاں نہیں۔



انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تعمیری و دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔ ہم مسائل، رکاوٹوں اور خدشات کو دور کرنے کے لئے بات چیت و افہام و تفہیم کے لئے تیار ہیں تا کہ اختلافات کو ہوا نہ دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایران واضح طور پر اعلان کر چکا ہے اور کر رہا ہے کہ وہ کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کا خواہشمند نہیں۔ ہم اس سلسلے میں افواہوں کو غلط ثابت کرنے اور مثبت تعاون کے لئے تیار ہیں۔ موجودہ صورتحال کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی اور جوہری معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہو گئے۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ الیکشن مہم کے دوران میرا منشور، ایران میں قومی مفاہمت اور دنیا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا تھا۔ ہم یورپی ممالک سمیت دنیا بھر کے ساتھ مفادات اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات بہتر بنانے کے خواہشمند ہیں، لیکن صیہونی رژیم نے میرے دور حکومت کے پہلے دن سے ہی اس راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ کے لئے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم