فریقین کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے حتمی حل موجود ہے، ڈاکٹر مسعود پزشکیان
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
اپنے ایک ٹویٹ میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایمانوئل میکرون سے اپنی ملاقات میں، میں نے ایک ایسا حل پیش کیا جس سے یورپ کی تشویش کو دور کی جا سکتی ہے اور ایران کے مفادات کا تحفظ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر "مسعود پزشکیان" نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ٹویٹ کیا، جس میں انہوں نے اپنے فرانسوی ہم منصب "ایمانوئل میکرون" کے ساتھ ملاقات کی تفصیلات شیئر کیں۔ اس بارے میں انہوں نے لکھا كہ آج میں نے مسٹر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ایک تفصیلی بات چیت کی۔ جس میں خیالات کا مفصل تبادلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران میں نے ایک ایسا حل پیش کیا جس سے یورپ کی تشویش کو دور کی جا سکتی ہے اور ایران کے مفادات کا تحفظ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے زور دے کر کہا کہ اگر جوہری مسئلے میں انصاف اور دونوں فریقوں کے مفادات کو یقینی بنایا جائے تو حتمی حل موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دونوں طرف کے قیدیوں کے معاملے کو حل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان، اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں شرکت کے لئے اس وقت نیویارک میں ہیں۔ جہاں انہوں نے گزشتہ روز اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے بعد ایمانوئل میکرون کے ساتھ مذکورہ ملاقات کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایمانوئل میکرون مسعود پزشکیان انہوں نے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔