Islam Times:
2026-06-03@01:42:51 GMT

مقبوضہ کشمیر، لداخ میں جمہوری حقوق کی بحالی کیلئے پُرتشدد مظاہرے

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے پارلیمنٹ ممبر سید ناصر حسین نے کہا کہ لیہہ لداخ کی صورتحال انتہائی تشویشناک اور پریشان کن ہے، مودی حکومت اور لداخ کے لوگوں کے درمیان جاری تنازعات اور تناؤ نے شہری بدامنی اور آتش زنی کو جنم دیا ہے۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: جاوید عباس رضوی

مقبوضہ کشمیر کے سرحدی ضلع لیہہ (لداخ) میں جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کو لیکر پُرتشدد مظاہرے ہوئے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان سخت جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے بی جے پی کے مقامی دفتر کو آگ لگا دی۔ لیہہ میں تحریک کی قیادت لیہہ اپیکس باڈی (ایک آزاد تنظیم) کرتی ہے۔ وہ لداخ کو ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیہہ لداخ کا دارالحکومت ہے، جو ایک مرکز کے زیرانتظام علاقہ ہے، اسے جموں و کشمیر کی تقسیم (2019ء) کے بعد یونین ٹیریٹری کا درجہ دیا گیا تھا۔ ادھر لیہہ اپیکس باڈی کے رہنماء بھوک ہڑتال پر ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ جب تک ان کے ریاستی مطالبات پورے نہیں ہوتے، وہ بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔ وہ 10 ستمبر سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک بھی اسی تنظیم کے تحت بھوک ہڑتال پر ہیں۔ اب جبکہ مظاہرین نے تشدد کا سہارا لیا ہے، وانگچک نے امن کی اپیل کی ہے۔ تشدد میں چار افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور پولیس کی کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ وانگچک نے اپنی 15 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

لیہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس گذشتہ چار برسوں سے بھارتی وزارت داخلہ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، لیکن کوئی حل نہیں نکل سکا ہے۔ لیہہ اپیکس باڈی نے مودی حکومت سے بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے مذاکرات کے لئے 6 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ وزارت داخلہ کے ساتھ سابقہ ​​میٹنگ مئی میں ہوئی تھی۔ لیہہ اپیکس باڈی کا مطالبہ ہے کہ جب بھی حکومت میٹنگ کا وقت طے کرتی ہے، تاریخ کو حتمی شکل دینے سے پہلے اس سے مشورہ کیا جانا چاہیئے۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت خود بخود مذاکرات کی تاریخ کا اعلان کرتی ہے اور انہیں بغیر اطلاع کے چھوڑ دیتی ہے۔ لیہہ ایپکس باڈی کے شریک چیئرمین چیرنگ دورجے نے کہا کہ ہمارا احتجاج پُرامن ہے، لیکن لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے، صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے، مذاکرات پہلے ہی ملتوی ہوچکے ہیں۔

سونم وانگچک چاہتے ہیں کہ حکومت آئندہ ہل کونسل انتخابات سے قبل لداخ کو "چھٹے شیڈول" میں شامل کرنے کا مطالبہ تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ مطالبہ مان لے تو لداخ کے لوگ ووٹ میں حصہ لیں گے اور اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔ میڈیا کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ بات چیت چاہتے ہیں اور اس میں چھٹے شیڈول کے تحفظات پر بات چیت شامل ہونی چاہیئے، یہ وعدہ 2020ء میں گزشتہ انتخابات کے دوران کیا گیا تھا۔ چھٹے شیڈول میں لداخ کو شامل کرنا بی جے پی کے منشور میں نمبر ایک عہد تھا۔ اس نے ایک بار پھر ہل کے انتخابات میں جیتنے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے مظاہرین کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے، جس سے ملک کی بدنامی ہو، اس لئے ہم پُرامن طریقے سے تحریک جاری رکھنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا "میرا یہ مطالبہ پچھلے پانچ سال سے تھا، آپ کو سمجھ لینا چاہیئے کہ ملک کا آئین بھی دو سال میں تیار ہوگیا تھا، پھر تاخیر کیوں۔"

سونم وانگچک نے کہا کہ جموں و کشمیر کو پہلے ہی اپنی اسمبلی اور اپنی حکومت مل چکی ہے، تو لداخ کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ سونم وانگچک نے کہا کہ لداخ اب بھی مودی حکومت کے اہلکار چلا رہے ہیں۔ وانگچک نے پہلے کہا تھا کہ یہ مطالبات آئین کے دائرے میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی نے خود اپنے منشور میں آرٹیکل 244 کے تحت لداخ کو چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وانگچک نے 2024ء میں لیہہ سے دہلی کا سفر پیدل چل کر کیا۔ ان کے مطابق وزارت داخلہ نے صرف دو مطالبات پر بات چیت پر اتفاق کیا: علیحدہ سروس کمیشن کی تشکیل اور دو پارلیمانی نشستیں۔ لیہہ اپیکس باڈی سے اختلاف کرنے والوں کا کہنا ہے کہ لداخ جموں و کشمیر کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ ان کا بنیادی مطالبہ لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کرنا تھا اور اسے یونین ٹیریٹری کا درجہ دیا گیا تھا، اس لئے ان کا مطالبہ پورا ہوچکا ہے، اس لئے اس پر بات نہیں ہوسکتی۔

جہاں تک "چھٹے شیڈول" میں شمولیت کا تعلق ہے، یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ چھٹا شیڈول، دفعہ 244 کے تحت بیان کیا گیا ہے، آسام، میگھالیہ، میزورم اور تریپورہ جیسے قبائلی علاقوں کو زیادہ خود مختاری فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت اے ڈی سی یا خود مختار ضلع کونسل، زمین کے استعمال، وراثت کے قوانین اور سماجی رسم و رواج کا انتظام کرتی ہے۔ اے ڈی سی قانون سازی، ایگزیکٹو اور مالیاتی اختیارات بھی استعمال کرتا ہے۔ اس کا کردار مقامی وسائل کا انتظام کرنا بھی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اے ڈی سی ریاستی قوانین کی جگہ لے کر اپنے قوانین بنا سکتا ہے، لیکن اس کے لئے گورنر کی رضامندی درکار ہے۔ فی الحال لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل کے پاس ضلعی سطح پر منصوبہ بندی اور ترقی کو نافذ کرنے کا اختیار ہے۔

لداخ کے احتجاج کرنے والے طلباء بھی بے روزگاری سے ناراض ہیں۔ کچھ مظاہرین نے ایک حالیہ سروے کا حوالہ دیا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ لداخ کے 26 فیصد گریجویٹس بے روزگار ہیں، جبکہ قومی سطح پر یہ 13.

4 فیصد ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لداخیوں کو 95 فیصد سرکاری نوکریاں ملیں۔ کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے اہم رہنماء سجاد کرگلی نے سوشل میڈیا پر لکھا "لیہہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بدقسمتی کی بات ہے۔ لداخ، جو کبھی پُرامن تھا، اب حکومت کی جانب سے یونین ٹیریٹری بنانے کی ناکام کوشش کی وجہ سے مایوسی اور عدم تحفظ کے احساس میں گھرا ہوا ہے۔" انہوں نے کہا کہ یہ مودی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بات چیت کو دوبارہ شروع کرے اور لداخ ریاست کے مطالبات کو پورا کرے اور اس کے بغیر ریاست کا مطالبہ پورا کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں سے امن برقرار رکھنے اور صبر کی اپیل کرتا ہوں۔

جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارتی حکومت کے لئے یہ وقت مناسب ہے کہ وہ ایمانداری سے اور پوری طرح سے اس بات کا جائزہ لے کہ 2019ء کے بعد سے واقعی کیا بدلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ویڈیو وادی کشمیر کی نہیں ہے، جسے بدامنی کا مرکز سمجھا جاتا ہے، بلکہ لداخ کے دل کا ہے، جہاں مشتعل مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں اور بی جے پی کے دفتر کو آگ لگا دی ہے۔ لیہہ جو طویل عرصے سے اپنے امن و آشتی کے لئے جانا جاتا ہے، لیکن اب تشویشناک مظاہروں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ لوگ صبر کھو چکے ہیں، دھوکہ دہی، غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور ادھورے وعدوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ حکومت روز مرہ کے بحران کے انتظام سے آگے بڑھے اور اس عدم اطمینان کی بنیادی وجوہات کو فوری اور شفاف طریقے سے حل کرے۔

ادھر کانگریس کمیٹی کے رکن پارلیمنٹ سید ناصر حسین نے کہا کہ لیہہ لداخ کی صورتحال انتہائی تشویشناک اور پریشان کن ہے۔ مودی حکومت اور لداخ کے لوگوں کے درمیان جاری تنازعات اور تناؤ نے شہری بدامنی اور آتش زنی کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مودی حکومت سے لوگوں کو پُرسکون کرنے اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لئے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے، ہم خطے میں امن اور استحکام کو بحال کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔ لداخ کے لوگوں کے جائز مطالبات کو حل کرنے کے لئے مودی حکومت اور احتجاجی رہنماؤں کے درمیان فوری بات چیت، بشمول ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے لئے تمام اقدامات کئے جائیں، جبکہ لداخ کے لوگوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے رائے پور مک مل اجلاس میں منظور کردہ قرارداد کے مطابق، آئین کے چھٹے شیڈول کو لداخ تک توسیع دینے کے لئے پُرعزم ہے۔ لیہہ میں پُرتشدد مظاہروں اور سونم وانگچک کا پیغام ویڈیو کی شکل میں پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ لداخ کے لوگوں وزارت داخلہ بھوک ہڑتال مظاہرین نے مودی حکومت کے درمیان کا مطالبہ چاہتے ہیں لوگوں کے بی جے پی کرنے کا کہ لداخ کرتی ہے بات چیت کا درجہ کے ساتھ گیا تھا لداخ کو کے تحت رہا ہے اور اس کے لئے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد