حکومتِ آزاد کشمیر، عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر وفاقی وزراء طارق فضل چوہدری اور انجینئر امیر مقام نے آزاد جموں و کشمیر جا کر ان مذاکرات میں ثالثی کی کوشش کی۔وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر وفاقی وزراء طارق فضل چوہدری اور انجینئر امیر مقام نے آزاد جموں و کشمیر جا کر ان مذاکرات میں ثالثی کی کوشش کی۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے۔ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر وفاقی وزراء طارق فضل چوہدری اور انجینئر امیر مقام نے آزاد جموں و کشمیر جا کر ان مذاکرات میں ثالثی کی کوشش کی۔مذاکرات کے دوران جب بھی کسی معاہدے کی صورت بنتی، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے نئے مطالبات پیش کر دیے جاتے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے تاجروں اور کاروباری طبقے کے لیے بجلی میں مزید سبسڈی کا مطالبہ بھی پیش کیا، بجلی سبسڈی کا یہ مطالبہ گھریلو صارفین کے دائرہ کار سے ہٹ کر پایا گیا۔اس کے علاوہ، ایکشن کمیٹی نے جج صاحبان کی پنشن ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ بعد ازاں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اچانک مذاکرات کا سلسلہ منقطع کر دیا جس کے باعث یہ بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جوائنٹ ایکشن کمیٹی
پڑھیں:
اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل اور معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی گفتگو مختلف معاملات پر جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے یا ان کا اختتام کس نوعیت کے معاہدے پر ہوگا، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
عالمی مبصرین کی نظریں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔