دھیرکوٹ، یوم شہداء جموں کے موقع پر سیمینار کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
ذراائع کے مطابق دھیر کوٹ آزاد کشمیر میں انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈیولپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز کے زیراہتمام منعقدہ ایک سیمینار میں شہدائے جموں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ دھیر کوٹ آزاد کشمیر میں انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈیولپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز کے زیراہتمام منعقدہ ایک سیمینار میں شہدائے جموں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ولید رسول سمیت سیمینار کے مقررین نے کہا کہ سانحہ جموں کشمیر کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جب نومبر 1947ء میں بھارتی فوجیوں، ڈوگرہ مہاراجہ کی فوج اور ہندو انتہا پسندوں نے ڈھائی لاکھ سے زائد جموں کے مسلمانوں کا قتل عام کیا جو پاکستان ہجرت کر رہے تھے۔ مقررین نے کہا کہ جموں کے مسلمانوں کے قتل عام کی منصوبہ بندی کئی ہفتے قبل کی گئی تھی۔انہوں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس دن جموں کے مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے پاکستان کے ساتھ اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جب جموں خطے میں مسلمانوں کی اکثریت کا اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کے تحت لاکھوں مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘