---فائل فوٹو 

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اپوزیشن کبھی ہماری تعریف نہیں کر سکتی، مجھے معلوم ہے کہ ان سب کو یہ تکلیف ہے کہ کے ایم سی اپنے پاؤں پر کھڑا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے اپنے بیان میں کہا کہ تنقید برائے تنقید سے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہمیں منفی چیزوں سے نکلنا ہوگا، کراچی میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں، جب تک کراچی والے ایک پیج پر نہیں آئیں گے کھیچا تانی چلتی رہے گی۔

مرتضیٰ وہاب نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا لاہور میں پی آئی ڈی سی ایل کام کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں بارشوں کے بعد پہلی بار لیاری اور ملیر ندی کو بہتے دیکھا، پہلے مینگروز پارک کو دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے، پراپرٹی سیکٹرز کے لوگ بھی اس طرح کے پارکس پر کام کر رہے ہیں، نیٹی جیٹی پل کے پاس بھی ایک نیا مینگروز پارک بنائیں گے، نیٹی جیٹی پل پر کھڑے ہو کر شہری صرف درختوں کو دیکھتے ہیں۔

 اِن کا کہنا تھا کہ جو پیسہ ہمارے پاس ہے عوام کے اوپر استعمال کریں گے، لوگوں کی تکلیف اور پریشانی کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا ہے کہ بابو اچھل اچھل کر کہہ رہے تھے میئر کام رکوا دیتا ہے، پی اینڈ ڈی کے وزیر کو وزیرِ اعلیٰ سندھ سے بات کرنی چاہیے۔

انہوں نے ایشیاکپ 2025ء کے سلسلے میں کل بروز اتوار پاکستان بمقابلہ بھارت ہونے والے میچ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ  پچھلے میچ میں پاکستان نے اچھا پرفارم کیا ہے، میری دعائیں پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وہاب نے کہا کہ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک