مجھے معلوم ہے اپوزیشن کو تکلیف ہے کہ کے ایم سی اپنے پاؤں پرکھڑا ہے: مرتضیٰ وہاب
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
---فائل فوٹو
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اپوزیشن کبھی ہماری تعریف نہیں کر سکتی، مجھے معلوم ہے کہ ان سب کو یہ تکلیف ہے کہ کے ایم سی اپنے پاؤں پر کھڑا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے اپنے بیان میں کہا کہ تنقید برائے تنقید سے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہمیں منفی چیزوں سے نکلنا ہوگا، کراچی میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں، جب تک کراچی والے ایک پیج پر نہیں آئیں گے کھیچا تانی چلتی رہے گی۔
مرتضیٰ وہاب نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا لاہور میں پی آئی ڈی سی ایل کام کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں بارشوں کے بعد پہلی بار لیاری اور ملیر ندی کو بہتے دیکھا، پہلے مینگروز پارک کو دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے، پراپرٹی سیکٹرز کے لوگ بھی اس طرح کے پارکس پر کام کر رہے ہیں، نیٹی جیٹی پل کے پاس بھی ایک نیا مینگروز پارک بنائیں گے، نیٹی جیٹی پل پر کھڑے ہو کر شہری صرف درختوں کو دیکھتے ہیں۔
اِن کا کہنا تھا کہ جو پیسہ ہمارے پاس ہے عوام کے اوپر استعمال کریں گے، لوگوں کی تکلیف اور پریشانی کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا ہے کہ بابو اچھل اچھل کر کہہ رہے تھے میئر کام رکوا دیتا ہے، پی اینڈ ڈی کے وزیر کو وزیرِ اعلیٰ سندھ سے بات کرنی چاہیے۔
انہوں نے ایشیاکپ 2025ء کے سلسلے میں کل بروز اتوار پاکستان بمقابلہ بھارت ہونے والے میچ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے میچ میں پاکستان نے اچھا پرفارم کیا ہے، میری دعائیں پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔