سعودی عرب کا فلسطینی اتھارٹی کی معاونت کے لیےعالمی اتحاد قائم کرنے ، 9 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 ستمبر2025ء) سعودی عرب نے فلسطینی اتھارٹی کی معاونت کے لیےعالمی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے ، مملکت اس کے ذریعے 9 کروڑ ڈالر فراہم کرے گی۔العربیہ اردو کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے دو ریاستی حل پر عالمی اتحاد کے مشترکہ اجلاس میں واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد اب 159 سے زائد ہو چکی ہے۔
(جاری ہے)
یہ پیش رفت سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے بعد سامنے آئی، جس کا مقصد فلسطین کے مسئلے کا پر امن حل اور دو ریاستی حل پر عمل درآمد ہے۔سعودی وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر جنگ روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب شراکت داروں کے ساتھ مل کر جامع اور منصفانہ امن کے لیے کوشاں رہے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔