اسرائیل کی غزہ پر بمباری، 24 گھنٹے میں 170 حملے،83 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
وسطی اور جنوبی غزہ میں تباہی عروج پر، درجنوں مقامات تباہ، سیکڑوں فلسطینی نقل مکانی پر مجبور
216 زخمی، خواتین اور بچے نشانہ بنے،ہسپتالوں میں طبی سہولیات بند کر دی،عرب میڈیا
تباہ حال غزہ پر قابض اسرائیلی فورسز کے حملوں میں کمی نہ آسکی، اسرائیل کی غزہ پر شدید بمباری، 24 گھنٹے میں 170 سے زائد حملے کئے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز کی بمباری سے وسطی اور جنوبی غزہ میں تباہی عروج پر پہنچ گئی، درجنوں مقامات تباہ، سیکڑوں فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔24 گھنٹے میں صیہونی حملوں میں مزید 83 فلسطینی شہید، 216 زخمی ہو گئے، اسرائیلی بربریت میں امداد کے متلاشی 7 فلسطینی شہید ہوگئے، مجموعی تعداد 2 ہزار 538 ہوگئی۔عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی شہدا کی مجموعی تعداد 65 ہزار 427 ہوگئی، 1 لاکھ 67 ہزار 376 فلسطینی زخمی ہو چکے، اسرائیلی حملوں سے غزہ کے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا، طبی سہولیات ناپید ہیں۔غزہ شہر میں صحت کی مزید سات سہولیات بند کر دی گئیں، اسرائیل نے حماس کے ٹھکانوں کا بہانہ بنا کر شدید بمباری کی جس سے خواتین اور بچے نشانہ بنے۔اسرائیلی ڈیفنس فورس نے دعویٰ کیا کہ اہداف میں حماس کے مزاحمت کار، ہتھیاروں کے ڈپو شامل ہیں، حماس کے ڈھانچے، عمارتیں اور گودام تباہ کر دیئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔