Express News:
2026-07-24@04:44:09 GMT

پاکستان سعودیہ معاہدہ

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

ٹائن بی نے قوموں اور تہذیبوں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو قومیں چیلنجز اور خطرات سے لڑتے ہوئے آگے بڑھتی ہیں وہ ترقی کے زینے پر اوپر ہی اوپر سفر جاری رکھتی ہیں۔ 17ستمبر 2025 کو ریاض سعودی عرب میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اسٹریٹیجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط ہوئے۔

پاکستان کے اندر اور دنیا بھر میں اس اہم معاہدے پر تبصرے ہو رہے ہیں۔ ہندوستانی میڈیا میں شور مچا ہے کہ سعودی عرب ویسے تو ہندوستان کے بہت قریب ہے اور ہندوستان بھی پاکستان کی طرح ایک ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے تو سعودیہ نے ہندوستان کو چھوڑ کر پاکستان سے آخر کیوں دفاعی معاہدہ کیا۔پاکستان کے اندر تقریباً ساری ہی سیاسی قیادت نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔

پاکستان سے باہر چند مشہور تجزیہ کاروں نے رائے دی ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان کی افواج ، خطے کی برتر قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں،کہ یہ وہ فوج ہے جس پرخلیجی ممالک اپنے دفاع کے لیے بھروسہ کر سکتے ہیں۔

میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ بھلاہو نریندر مودی کا اگر وہ امسال اپریل میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور پھر اس کو بہانہ بنا کر مئی میں پاکستان پر حملہ نہ کرتا تو ہم پاکستانی اور دنیا بھر کے لوگ پاکستانی افواج خاص کر پاکستان ایئر فورس کی حربی صلاحیت سے نا آشنا رہتے۔اس اہم معرکے نے دنیا کو باور کرا دیا کہ پاکستان ایک اہم ابھرتی فوجی قوت ہے۔

 ہندوستان کی بیوقوفی کے بعد 9ستمبر کو اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ایک غیر دانشمندانہ فیصلے کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے میزبان قطر پر حملہ کر کے حماس کی پوری مذاکراتی ٹیم کو تہہ تیغ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔اس حملے سے پہلے مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک امریکی سیکیورٹی چھتری کو نجات کا واحد ذریعہ سمجھتے تھے لیکن قطر پر اسرائیلی حملے نے عربوں کو باور کرادیا کہ امریکی سیکیورٹی گارنٹی صرف کاغذی پیرہن ہے،یہ کہ امریکا صرف اور صرف اسرائیل کے ساتھ ہے۔

دوحہ پر اسرائیلی حملے کے فوراً بعد عرب اور اسلامی ممالک کی ایک ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی جس میں وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے موقع پر وزیرِ اعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد کی ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں سعودی ولی عہد نے شہباز شریف کو سرکاری دورے کی دعوت دی۔

وزیرِ اعظم جناب شہباز شریف اپنے وفد کے ہمراہ17ستمبر کو ریاض سعودی عرب روانہ ہوئے۔ وزیرِ اعظم پاکستان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔اسی روز دونوں رہنمائوں نے ایک لینڈ مارک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جس کی ایک اوپریٹو کلاز کے مطابق دونوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا اور دونوں ممالک مل کر حملے کا جواب دیں گے۔ اس باہمی معاہدے کو کئی حوالوں سے پرکھنا ہوگا مثلاً یہ دیکھنا ہوگا کہ اس سے دونوں ممالک کو کیا فائدہ ہو گا، خطے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

قطر پر اسرائیلی حملے نے خلیجی ممالک خاص کر سعودی عرب کو ایک غیر متوقع مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا۔امریکا نے اس اسرائیلی حملے کو نہ تو روکنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس کی مذمت کی۔امریکی وزیرِ خارجہ حملے کے بعد اسرائیل پہنچے اور اسرائیل کی حمایت میں کھڑے رہنے کا اعلان کیا۔اس صورتحال میں سعودی عرب چونکا اور اپنے دفاعی آپشنز کو Diversify کرنے کا فیصلہ کیا۔سعودی عرب میں افواج کو دفاعِ وطن میں وہ مرکزی حیثیت حاصل نہیں جو عام طور پر اکثر ممالک میں ہوتی ہے۔سعودی عرب میں بہترین دفاعی قوت حارث الوطنیNational Guards ہے۔

حارث الوطنی سعودی شاہی خاندان اور اس کی حکومت کو سیکیورٹی چھتری فراہم کرتی ہے۔ سب سے اچھے ہتھیار اسی کے پاس ہوتے ہیں۔ سعودی افواج دوسرے درجے کی فورس ہیں۔ پاک سعودی دفاعی معاہدے سے سعودیہ کے دفاع کے لیے جان دینے کی ذمے داری بنیادی طور پر پاکستانی افواج کے سرآ گئی ہے۔اس معاہدے سے سعودیہ کا مغرب اور خاص کر امریکا پر انحصار کم ہوگا جس سے سعودیہ کے دفاعی آپشنز بڑھ گئے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ دوسرے خلیجی ممالک بھی دفاع کے لیے پاکستان کی طرف دیکھیں۔

افواجِ پاکستان کو اس دفاعی معاہدے سے بہت فائدہ ہوگا۔سعودی افواج کے جدید ترین ہتھیاروں کواستعمال میں لاتے ہوئے افواجِ پاکستان بہت کچھ سیکھیں گی۔سعودی عرب میں تعینات ہمارے فوجیوں کے ماہانہ مشاہرے میں خاصا اضافہ ہوگا۔حکومتِ پاکستان کی یہ ایک بہت اہم سفارتی کامیابی ہے جس سے حکومت پر اندرونی سیاسی دبائو کم ہوگا۔پاکستان کی فوج کے افسروں اور جوانوں کا اپنی اعلیٰ ترین قیادت پر اعتبار بڑھے گا۔

اعلی ترین فوجی قیادے کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ریاستِ پاکستان کے چیلنجز میں بہت اضافہ ہوگا۔پاکستان کی ریاست کو پہلے ہی ہندوستان اور افغانستان کی طرف سے خطرات درپیش ہیں۔اب مشرقِ وسطیٰ کے سب سے اہم ملک کو اسرائیل،یمن و ایران کی طرف سے درپیش خطرات سے بھی ریاستِ پاکستان کو نمٹنا ہوگا۔ٹائن بی کے مطابق اگر ہم ان چیلنجز سے عہدہ برآ ہو سکے تو ایک شاندار مستقبل سامنے ہوگا۔اسرائیل مغرب اور بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیاں کرے گا۔سعودیہ دفاع کے سلسلے میں پاکستان پر بھروسہ کر سکتا ہے لیکن اس میدان میں پاکستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ہاں معیشت کے شعبے میں سعودیہ ضرور پاکستان کی مدد کر سکے گا۔

ہندوستان اور پاکستان کی لیبرفورس ایک بڑی تعداد میں سعودیہ میں مقیم ہے۔ پچھلے چند سالوں سے پاکستانی لیبر فورس پر بہت پابندیاں تھیں۔امید کی جا سکتی ہے کہ اب پاکستانی لیبر فورس کو سعودی عرب میں کام کرنے کے بہت مواقع ملیں گے۔خطے کے ممالک کے لیے یہ ایک اچھی پیش رفت ہے لیکن ہندوستان اس سے سخت نالاں ہے کیونکہ اس کی مرضی کے خلاف پاکستان پر بھروسہ کیا گیا ہے۔

چین خطے کا ایک بہت اہم ملک ہے۔چین پہلے ہی سعودی عرب اور ایران کو مخاصمت سے ہٹا کر قریب لا چکا ہے۔یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ چین اس معاہدے سے مطمئن ہوگا کیونکہ چین اور پاکستان کی مثالی باہمی دوستی ہے، پاکستان کے بڑھتے اثر و رسوخ سے چین مطمئن ہوگا۔ روسی سفیر نے پاک سعودیہ دفاعی معاہدے کو سراہا ہے۔ امریکا نے تا حال کوئی منفی بیان نہیں دیا۔معاہدے سے پاکستان کی پاور پروجیکشن ہوگی۔اس معاہدے سے پاکستان نے اپنے اسٹریٹیجک آپشنز کو Expandکیا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کے ہاتھ میں ایک اہم ڈپلومیٹک ٹُول ہے جس سے پاکستان بہت سے فائدے سمیٹ سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیلی حملے دفاعی معاہدے اس معاہدے سے میں پاکستان پاکستان کی سے پاکستان پر حملہ دفاع کے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل