ایشیا کپ میں شاندار کارکردگی: شاہین آفریدی نے بابر اعظم کو پیچھے چھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
پاکستان کے اسٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے اور بابر اعظم کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ پلیئر آف دی میچ ایوارڈز جیتنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں نیا مقام حاصل کر لیا ہے۔
شاہین نے یہ اعزاز ایشیا کپ 2025 کے سپر فور مرحلے میں بنگلہ دیش کے خلاف شاندار آل راؤنڈ کارکردگی دکھا کر حاصل کیا۔
انہوں نے بیٹنگ میں قیمتی 19 رنز بنائے اور گیند کے ساتھ صرف 17 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت پاکستان نے 11 رنز سے کامیابی حاصل کی اور فائنل میں رسائی حاصل کی۔
یہ شاہین کے کیریئر کا دسویں بار پلیئر آف دی میچ ایوارڈ ہے، جس کے ساتھ وہ بابر اعظم (9 ایوارڈز) کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔
پاکستانی کھلاڑیوں کے سب سے زیادہ پلیئر آف دی میچ ایوارڈزپاکستانی کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ پلیئر آف دی میچ ایوارڈز محمد رضوان اور شاداب خان کے پاس ہیں جنہوں نے 12، 12 مرتبہ یہ اعزاز حاصل کیا، ان کے بعد محمد حفیظ اور شاہد آفریدی 11، 11 ایوارڈز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
شاہین شاہ آفریدی نے 10 ایوارڈز کے ساتھ بابر اعظم کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جن کے پاس 9 ایوارڈز ہیں، جبکہ عمر اکمل نے 7 اور شعیب ملک نے 6 مرتبہ یہ اعزاز اپنے نام کیا ہے۔
بابر کے بعد اب شاہین کی بارییہ ریکارڈ اس وقت سامنے آیا ہے جب شاہین آفریدی کو پاکستان کے ابھرتے ہوئے آل راؤنڈر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نہ صرف وہ وکٹیں لے رہے ہیں بلکہ بیٹنگ میں بھی ٹیم کو قیمتی رنز فراہم کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شاہین کا یہ تسلسل برقرار رہا تو وہ جلد ہی محمد رضوان اور شاداب خان کو بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں، جو 12، 12 ایوارڈز کے ساتھ فہرست میں سرفہرست ہیں۔
پاکستان اور بھارت کی فیصلہ کن ٹکرایشیا کپ 2025 کا فائنل اب پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوگا۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ دونوں روایتی حریف ایشیا کپ کے فائنل میں آمنے سامنے ہوں گے۔
بھارت اب تک ایونٹ میں ناقابلِ شکست ہے اور پاکستان کو شکست دے چکا ہے، تاہم شاہین آفریدی اور دیگر کھلاڑیوں کی فارم نے شائقین کو ایک سنسنی خیز مقابلے کی امید دلا دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پلیئر آف دی میچ کو پیچھے چھوڑ ایشیا کپ کے ساتھ حاصل کی
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔