کشمیر کا مستقبل ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر نے آزاد کشمیر کی مختلف جامعات کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی نظام فعال ہے اور تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر سمیت تمام اشاریے بہتر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اس بار ہم ہندوستان کے مشرق سے آغاز کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا دی اکانومسٹ کو انٹرویو
انہوں نے کہا کہ اگر ریاست ٹیکس وصول نہ کرے تو مراعات اور تنخواہیں دینا ممکن نہیں، اس وقت 30 فیصد سے زائد لوگ سرکاری ملازمت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن انتشار سے معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھارت کو وارننگ، علی امین کی نوکری بچ گئی
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ اللہ نے کشمیر کو بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے، پاکستان کے خواب کا تعلق بھی کشمیر سے ہے اور فوج میں بڑی تعداد میں کشمیری افسران اور جوان شامل ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ کشمیر کا مستقبل ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایس پی
پڑھیں:
آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔