آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی جو ایجنڈا لیکر اس وقت میسج دینا چاہ رہی ہے وہ کسی طرح بھی کشمیر کاز کے حق میں نہیں۔ خواجہ رمیض حسن
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 ستمبر2025ء) مسلم لیگ ق کے رہنما خواجہ رمیض حسن نے پریس ریلیز میں کہا کہ پاکستان مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی جنگ پریکٹیلی ہر فورم پر لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی جو ایجنڈا لیکر میسج دینا چاہ رہی ہے وہ کسی طرح بھی کشمیر کاز کے حق میں نہیں۔ وزیراعظم اقوامِ متحدہ کے فورم پر اس وقت بھی کشمیر کے کاز کو انتہائی احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مئی 2024 کے احتجاج کے بعد مہنگائی، بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں پر کمی کے تمام مطالبات کو پورا کرنے پر اتفاق کیاگیا اور اس پر کافی حد تک عملدرآمد بھی یقینی بنایا گیا۔ ان رعایتوں میں آٹے پر سبسڈی متعارف کرانا، بجلی کی قیمتوں کو ہائیڈرو پاور ذرائع سے بجلی کی پیداواری لاگت سے قریب لانے کے لیے ایڈجسٹ کرنا اور حکمران طبقے کے لیے مخصوص کچھ فوائد کو ختم کرنا شامل تھا۔(جاری ہے)
ان اقدامات کی حمایت کے لیے 23 ارب روپے کے مالی پیکیج کی منظوری بھی دی گئی تھی۔اور اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت انتہائی سنجیدگی سے کام کرتی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں اس ایکشن کمیٹی کا دوبارہ لاک ڈاؤن اور احتجاج کی دھمکی کسی صورت سمجھ سے بالاتر اور کسی ایسے ایجنڈے کی طرف اشارہ ہے جو آزاد کشمیر کو بحران کا شکار کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا تاثر پیش کررہی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔