Jasarat News:
2026-06-03@01:20:35 GMT

NLFپاکستان کا گیپکو ملازمین کی شہادت پر اظہار افسوس

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گزشتہ روز کوٹلی لوہاراں میں پیش آنے والے ایک دلخراش حادثے میں گیپکو کے چار محنت کش اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے۔ شہداء میں کلیم اللہ (ALM، سکنہ ہنوں گکھڑ)، عرفان احمد (ALM، سکنہ پتوکی)، راحیل (مکینک، سکنہ کجھوروال، عارضی ملازم) اور اکرم (سکنہ کوٹلی چندو، عارضی ملازم) شامل ہیں، جو محکمانہ غفلت اور حفاظتی اقدامات کی عدم فراہمی کے باعث دورانِ ڈیوٹی شہید ہوئے۔
نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی، صدر این ایل ایف سیالکوٹ فریاد حسین شاہ اور جنرل سیکرٹری امانت علی خاکی نے شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی، فاتحہ خوانی کی اور لواحقین کو دلاسہ دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کوٹلی لوہاراں گرڈ اسٹیشن کا بھی دورہ کیا جہاں گیپکو کے SE جمشید، XEN دانش چانڈیو، SDO اور دیگر افسران و ملازمین سے حادثے کی تفصیلات حاصل کیں۔
شمس الرحمن سواتی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ المناک سانحہ محکمانہ غفلت اور بنیادی حفاظتی اصولوں (Safety Protocols) کی کھلی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔ حادثے کے وقت کھمبے کی تنصیب یا منتقلی کے لیے کوئی مشینری یا کرین فراہم نہیں کی گئی تھی، نہ ہی کام کرنے والے ملازمین کو ذاتی حفاظتی سامان (PPE: Personal Protective Equipment) جیسے انسولیٹڈ دستانے، ہارنس، ہیلمٹ اور وولٹیج ڈٹیکٹر مہیا کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ کسی سینئر سپروائزر کی موجودگی بھی یقینی نہیں بنائی گئی، جو NEPRA Safety Code 2022 اور Pakistan Electrical Safety Standards (PEES) کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی تنصیبات پر کام کرتے وقت Lockout/Tagout (LOTO) Procedure، لائن کلیئرنس، اور گراؤنڈنگ جیسے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا لازم ہے تاکہ اچانک بجلی بحال ہونے سے حادثات نہ ہوں۔ یہ سب حفاظتی اقدامات بین الاقوامی معیار، خصوصاً OSHA (Occupational Safety and Health Administration) Standards – 29 CFR 1910.

269 کے مطابق لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
شمس الرحمن سواتی نے حکومت اور گیپکو انتظامیہ سے درج ذیل مطالبات کیے:
شہداء کے ورثاء کو آرمی شہداء کے برابر مالی پیکج اور تمام مراعات دی جائیں۔
حادثے کی غیر جانبدارانہ انکوائری محکمہ سے باہر کے آزاد ماہرین پر مشتمل کمیٹی سے کرائی جائے۔
تمام فیلڈ اسٹاف کو جدید حفاظتی آلات (PPE) فراہم کیے جائیں اور ان کے استعمال کو سختی سے یقینی بنایا جائے۔
اسٹاف کی کمی پوری کی جائے تاکہ ملازمین کو اوورلوڈ نہ کیا جائے اور حادثات کے خطرات کم ہوں۔
تمام لائن اسٹاف کی ریگولر ٹریننگ اور ریفریشر کورسز NEPRA اور OSHA گائیڈ لائنز کے مطابق کرائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس حادثے پر بھی محکمے نے آنکھیں بند رکھیں تو یہ رویہ انسانیت سوز اور مجرمانہ غفلت تصور ہوگا۔ حکومت، عدلیہ، میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس مسئلے پر فوری ایکشن لینا ہوگا تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حفاظتی ا

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد