Jasarat News:
2026-06-03@03:12:32 GMT

مزدور مسائل کے حل کے لیے سندھ حکومت سے مطالبات

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سائٹ لیبرفورم کے جنرل سیکرٹری بخت زمین خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ محکمہ محنت سندھ کے نمائشی وزیر کے وجہ سے محکمہ محنت کے تمام ادارے مکمل طور پر کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں جس کی وجہ سے مزدوروں کا فنڈ مزدوروں کے بجائے اداروں کے افسران اور سرکاری ملازمین کی ویلفیئر پر خرچ ہورہا ہیں اور موجودہ سیکرٹری لیبر رفیق قریشی کے آنے کے بعد تو صورتحال مزید خراب ہوگئی ہیں۔ سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ، سوشل سیکورٹی سندھ میں تو اب صورتحال مزید خراب ہوگئی ہیں اور گورننگ باڈیاں بھی نام کی رہ گئی ہیں۔ ان دونوں اداروں میں کرپٹ افسران کا راج ہے۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو اگر واقعی ورکرز سے ہمدردی ہیں تو صوبائی وزیر محنت سندھ اور سیکرٹری لیبر سندھ کو چینج کرکے مزدوروں سے ہمدردی رکھنے والا صوبائی وزیر محنت اور سیکرٹری لیبر لایا جائے جو ورکرز کے ساتھ انصاف کریں۔ ابھی تک شوشل سیکورٹی میں 60 فیصد ورکرز رجسٹریشن سے محروم ہیں جو 40 فیصد ورکرز رجسٹرڈ ہیں ان میں سے صرف 10 فیصد ورکرز کے پاس مزدور کارڈ موجود ہے باقی 30 فیصد ورکرز کا مزدور کارڈ نہ بنے کی وجہ سے علاج سے محروم ہیں اور جن 10 فیصد کا کارڈ بنا ہوا ہے وہ ورکرز سوشل سیکورٹی کے اسپتالوں ڈسپنسریوں میں ادویات اور علاج کے لیے شوشل سیکورٹی میں کرپٹ مافیا کے اذیت کا شکار ہے اور سیکرٹری لیبر اور سوشل سیکورٹی کے کرپٹ افسران آئے روز نئے رولز بناکر ورکرز کو پریشان کرتے ہیں تاکہ یہ 10 فیصد ورکرز بھی علاج کے لیے نہ آئے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سوشل سیکورٹی سرکاری ملازمین کے لیے بنا ہیں کیونکہ کیسی بھی سرکاری ادارے میں وہ مراعات نہیں مل رہا ہے جو اس ادارے میں سرکاری ملازمین اور افسران کو حاصل ہے جبکہ یہ ادارہ ٹوٹل صنعتی ورکرز کے کنٹوبیش پر قائم ادارہ ہیں جو علاج سے محروم ہیں۔ اس طرح سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کا بھی یہی حال ہے سرکاری افسران اور ملازمین کو تمام وہ سہولیات میسر ہیں جو سندھ کے کیسی اور ادارے کے سرکاری افسران اور ملازمین کو حاصل نہیں ہے اور سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں بھی آئے روز ویلفیئر اسکیموں کو ختم کرنے کے لیے نئے نئے رولز بنائے جاتے ہیں تاکہ ورکرز کو ان ویلفیئر اسکیموں سے محروم کرسکے۔ جس کی ایک مثال سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کا ویلفیئر کارڈ ہیں۔ اب اگر سندھ کی صوبائی حکومت جوکہ پیپلز پارٹی کی ہے کے صوبائی وزیر محنت، سیکرٹری لیبر جو سیکرٹری سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ بھی ہے۔ کمشنر سوشل سیکورٹی سندھ، ڈائریکٹر جنرل لیبر سندھ اور دیگر ذمہ داران یہ بتائیں کہ سندھ میں کتنے صنعتی ورکرز کے پاس تقرری لیٹر ہیں۔ سندھ میں سوشل سیکورٹی اور EOBI میں کتنے فیصد ورکرز رجسٹرڈ ہیں اور کتنے فیصد ورکرز کے پاس سوشل سیکورٹی کارڈ ہیں۔ 70 فیصد ورکرز کے پاس تقرری لیٹر، سوشل سیکورٹی اور EOBI کارڈ نہیں ہے۔ صنعتی زونز میں لیبر قوانین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے اور یہ ذمہ داری محکمہ محنت کے سیکرٹری لیبر کے ماتحت لیبر ڈیپارٹمنٹ کی ہیں جو سیکرٹری لیبر اپنی ذمہ داری فوری نہیں کرتا لیکن ورکرز سے کہتے ہیں کہ ہماری ذمہ داری ورکرز پوری کریں یہ ظلم ہیں سندھ کے صنعتی ورکرز پر لہٰذا حکومت سندھ سے درخواست ہے کہ اگر واقعی پیپلز پارٹی مزدوروں سے ہمدردی رکھتی ہے اور یہ وہی قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی ہیں اور پارٹی پالیسی میں تبدیلی نہیں ہوئی تو صوبائی وزیر محنت کو تبدیل کرکے کراچی سے پیپلز پارٹی کے منتخب کسی بھی ایم پی اے کو جو کراچی کے محنت کش بستیوں سے منتخب ہوئے اور مزدوروں کے مسائل سے واقف ہیں۔ ان میں سے صوبائی وزیر محنت بنایا جائے۔ سوشل سیکورٹی سندھ اور سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے گورننگ باڈیوں میں حقیقی صنعتی ورکرز کے نمائندوں کو شامل کریں تاکہ ورکرز کے مسائل سے واقف ہونے کی وجہ سے ایسے رولز نہ بن سکے جس پر عملدرآمد کرنا مشکل ہو اور لیبر کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھی حقیقی لیبر لیڈر کو شامل کیا جائے تاکہ ورکرزکو تمام قانونی حقوق مل سکے ورکرزکو تقرری لیٹر، سوشل سیکورٹی اور EOBI کارڈ مل سکے لیبر قوانین پر عملدرآمد ہوسکے۔ ٹریڈ یونین پر جو سندھ میں غیر اعلانیہ پابندی عائد ہیں وہ ختم ہوسکے۔ اور آئی ایل او سے مل کر جو مزدوروں اور ٹریڈ یونین پر جو شب خون مارنے کی کوشش ہورہی ہیں وہ ختم ہوسکے اگر یہی صورتحال رہی تو پیپلز پارٹی کی حکومت قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی مزدور دوست پالیسی اور محکمہ محنت کے تمام اداروں کو تباہ کرنے میں برابر کے شریک ہوگی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ سوشل سیکورٹی سیکرٹری لیبر ورکرز کے پاس پیپلز پارٹی صنعتی ورکرز فیصد ورکرز افسران ا ہیں اور ہیں جو ہے اور کے لیے

پڑھیں:

سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان

فائل فوٹو

سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔

خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 

سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔

اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔

تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل