ستائیسویں آئینی ترمیم کی حمایت کے لیے ایم کیو ایم نے اپنے مطالبات وزیراعظم کے سامنے رکھ دیے WhatsAppFacebookTwitter 0 6 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد:(آئی پی ایس)
ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے، جس میں 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مشاورت اور تجاویز پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے متعلق شقیں شامل کی جائیں۔

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں ایم کیو ایم کے وفد میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری، خالد مقبول صدیقی اور ڈاکٹر فاروق ستار شامل تھے۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال اور 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم رہنماؤں نے وزیرِاعظم پر زور دیا کہ آئینی ترمیم کے ذریعے بلدیاتی حکومتوں کو مالی اور انتظامی سطح پر مکمل اختیارات فراہم کیے جائیں تاکہ عوامی مسائل نچلی سطح پر حل ہو سکیں۔

واضح رہے کہ حکومتی اتحاد رواں ماہ 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانے کی تیاری میں مصروف ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئینی ترمیم کے مسودے پر مشاورت جاری ہے اور اتحادی جماعتوں کی تجاویز کو بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ اس اہم ترمیمی بل کو اتفاقِ رائے سے منظور کرایا جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف 27 ویں آئینی ترمیم کے سلسلے میں آج اتحادی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کریں گے، جس میں مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم پر مشاورت کی جائے گی۔ ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کو 14 نومبر کو قومی اسمبلی سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف اتحادی جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور اس حوالے سے تمام وزرا و ارکان پارلیمنٹ کے غیر ملکی دورے بھی منسوخ کردیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسبلی نے تمام جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کی ہے جب کہ اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے اور شیڈول کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، تاہم اجلاس میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈرز نے شرکت نہیں کی۔

ذرائع کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کے لیے اتحادیوں سے ملاقات کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا وفد وزیرعظم سے آج ملاقات کرے گا۔ پی پی رہنما پارٹی کے سی ای ای اجلاس سے قبل وزیراعظم سے ملاقات کریں گے، جس میں آئینی ترمیم پر مشاورت کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی رہنما دن گیارہ بجے والی پرواز کے بجائے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی روانہ ہوں گے، جہاں وہ پارٹی کے سی ای ای اجلاس میں شرکت کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے وفد میں فاروق ایچ نائیک، مرتضیٰ وہاب، عرفان قادر، راجا پرویز اشرف، نوید قمر اور شیری رحمن شامل ہیں جب کہ وزیراعظم کے ہمراہ حکومتی وفد میں اسحاق ڈار، اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان شامل ہیں۔

استحکام پاکستان پارٹی کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات

دریں اثنا وزیراعظم سے استحکام پاکستان پارٹی کے وفد نے بھی ملاقات کی، جس میں شہباز شریف نے آئی پی پی رہنماؤں کو 27ویں ترمیم پر اعتماد میں لیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ جسٹس گلگت بلتستان سردار شمیم کی مدت ملازمت میں توسیع ستائیسویں آئینی ترمیم؛ وزیراعظم آج اتحادی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کریں گے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹس کیس کی سماعت مکران کوسٹل ہائی وے پر کوچ اور ایل پی جی ٹرک میں تصادم سے7 افراد جاں بحق امریکی صدر نے پاک بھارت جنگ میں 8 طیارے گرائے جانے کا دعویٰ کردیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن