امریکی صدر کا مسلم رہنماؤں کے سامنے مشرق وسطیٰ اور غزہ کے لیے 21 نکاتی امن منصوبہ پیش
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم ممالک کے رہنماؤں کے سامنے مشرقِ وسطیٰ اور غزہ کے مسئلے کے حل کے لیے 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ اور غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے 21 نکاتی منصوبہ مسلم دنیا کے رہنماؤں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اس منصوبے کو نیویارک میں جاری اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بعض مسلم ممالک کے قائدین کے حوالے کیا گیا۔
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ، اسٹیو وٹکوف کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ یہ منصوبہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور غزہ کی صورتحال کو بہتر بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں بھرپور توقع ہے کہ آئندہ چند دنوں میں غزہ کے مسئلے پر کسی نہ کسی اہم پیش رفت کا اعلان کیا جا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے بھی بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، تاہم تہران نے اب تک ایک سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔ “ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کے خواہاں ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ بھی اس عمل کا حصہ بنے گا،” وٹکوف نے کہا۔
اس سے ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے نیویارک میں اسلامی ممالک کے سربراہان سے ملاقات کی تھی، جو تقریباً پچاس منٹ جاری رہی۔ اس ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتِ حال اور خاص طور پر غزہ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، ترکیہ کے صدر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، قطر اور انڈونیشیا کے رہنما بھی شریک ہوئے۔ گفتگو کے بعد صدر ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس ملاقات کو غیر معمولی حد تک کامیاب قرار دیا۔ ان کے مطابق غزہ کے مسئلے پر مسلم قیادت کے ساتھ یہ نشست نہایت تعمیری اور مثبت رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی صدر اور غزہ غزہ کے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔