data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250927-8-3

 

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)فلسطین کے دو ریاستی حل کو تسلیم کرنا درحقیقت ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے قبضہ کو تسلیم کرنا ہے۔ گریٹر اسرائیل کے منصوبہ سے عرب ممالک کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ دشمن کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے مسلم ممالک کا اتحاد ناگزیر ہے۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کئی مغربی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔ دوسری طرف بعض مسلم ممالک کے سربراہان بھی زور دے رہے ہیں کہ تمام مسلم ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیں، جس کی حیثیت اسرائیل کی ایک کالونی سے زیادہ نہیں ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ فلسطین میں مسلمانوں کا مقدس حرم یعنی مسجد اقصی موجود ہے، جس کی تولِیت کا حق صرف مسلمانوں کا ہے۔ لہٰذا فلسطین میں صرف ایک ریاست کے وجود کا دینی جواز ہے جو مسلمانوں کی ہو۔ پھر یہ کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق  بھی اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اپنے بیانات میں بار بار گریٹراسرائیل کے قیام کے عزم کا اظہار کر رہا ہے اور امریکی معاونت کے ساتھ اِس ابلیسی منصوبہ کی تکمیل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امیر تنظیم نے کہا کہ طاغوتی قوتوں کے تمام مذموم مقاصد اور مظالم کو روکنے کے لیے مسلم ممالک کا کثیر الجہتی اتحاد ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر اب بھی مسلم ممالک متحد ہو کر عسکری اتحاد نہیں بناتے، گلوبل صمود فلوٹیلا کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتے اور صہیونیوں کے توسیعی منصوبوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتے بلکہ امریکا، اقوام متحدہ اور یورپی ممالک پر ہی تکیہ کرتے رہتے ہیں تو مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور اہل فلسطین کو مزید شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی اللہ تعالی مسلم ممالک کے حکمرانوں اور افواج کو غیرت و حمیت دینی عطا فرمائے تاکہ وہ متحد ہو کر دشمن کے سامنے صحیح معنوں میں بنیان مرصوص بن جائیں۔ اسی میں مسلمانوں کی دنیا اور آخرت دونوں کی کامرانی مضمر ہے۔

 

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کو تسلیم کر مسلم ممالک ممالک کا کے لیے

پڑھیں:

کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد

بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد