Jasarat News:
2026-07-24@02:00:31 GMT

آئینی ترمیم: وزرا و ارکان پارلیمنٹ کے غیرملکی دورے منسوخ

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن / صباح نیوز) 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے اہم معاملے کے پیش نظر وزیراعظم نے تمام وفاقی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ کے غیر ملکی دورے فوری طور پر منسوخ کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ تمام وزرا اور پارلیمانی ارکان اسلام آباد میں موجود رہیں تاکہ ترمیم کے حوالے سے اجلاس اور مشاورتی عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد 27 ویں ترمیم کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر مکمل توجہ دینا اور ملکی مفاد میں فوری اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت ترمیم کی منظوری کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورت اور حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہے‘ اس اقدام کے بعد وفاقی کابینہ اور پارلیمانی کمیٹیاں تمام متعلقہ امور پر اسلام آباد میں فوری اجلاس کر رہی ہیں، تاکہ ترمیمی عمل کی رفتار اور ملکی مفاد میں فیصلہ سازی بلا تعطل مکمل ہو سکے۔وزیراعظم شہباز شریف نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اہم ٹاسک دیدیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہاؤس بزنس مشاورتی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 27ویں آئینی ترمیم 14 نومبر کو قومی اسمبلی سے منظور کرائی جائے گی جبکہ ایوان کا موجودہ اجلاس بھی 14نومبر تک جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے دوران ایجنڈے اور شیڈول کی بھی باقاعدہ منظوری دی گئی تاہم تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ پارلیمنٹ سے27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے نمبر گیم اہمیت اختیار کرگیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کے لیے237 ارکان کی حمایت حاصل ہے جب کہ حکومت کو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں۔ قومی اسمبلی میں ن لیگی ارکان کی تعداد 125 اور پیپلز پارٹی کے 74 ارکان ہیں۔ ایم کیو ایم کے 22، پاکستان مسلم لیگ 5، آئی پی پی کے 4 ارکان حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔ ان کے علاوہ ضیا لیگ، نیشنل پارٹی، باپ پارٹی کا ایک ایک رکن اور 4 آزاد ارکان بھی حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد 89 ہے۔ دوسری جانب سینیٹ میں حکمران اتحاد کے اراکین 61 ہیں اور اپوزیشن اراکین کی تعداد 35 ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کے لیے 64 اراکین کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو سینیٹ میں جے یو آئی یا اے این پی کے 3 اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 27 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلاول زرداری کا حق ہے کہ وہ اظہار رائے کریں‘ تمام پارٹیوں سے مشاورت کے بعد جو شکل نکلے گی وہ سامنے لے آئیں گے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 ویں ترمیم وفاق کے لیے خطرہ ہے اور ترمیم کا حق صرف ان اراکین اسمبلی کو حاصل ہے جو مینڈیٹ لے کر آئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پورے ملک میں ہلچل ہے کہ وفاق صوبوں پر حملہ آور ہو رہا ہے، موجودہ حکومت نے 16 نشستوں کے ساتھ حکومت سنبھالی تھی ‘آئین میں ترمیم ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر، وفاقی وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ 27 ویں آئی ترمیم پر حکومت سے ہم نے خود رابطہ کیا، حکومت سمجھتی ہے کہ آئینی ترمیم سے عدالتی نظام میں بہتری آئے گی مگر وقت کا تقاضا ہے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ اسلام آباد میں ایم کیو ایم رہنماؤں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور امین الحق نے27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ آزاد سینیٹر فیصل واوڈا نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال اور 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیصل واوڈا نے مولانا فضل الرحمن کو مجوزہ ترمیم سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور پارلیمانی نظام میں مولانا کا ہمیشہ اہم اور متوازن کردار رہا ہے، اور امید ہے کہ وہ اس بار بھی مثبت کردار ادا کریں گے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے جواب میں کہا کہ جے یو آئی ایک ذمہ دار پارلیمانی جماعت ہے جو آئین کی محافظ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک آئینی ترمیم کا مسودہ سامنے نہیں آتا، اس پر کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔ مولانا نے مزید کہا کہ مسودہ سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کی پارلیمانی پارٹی، قانونی ٹیم اور شوریٰ سے مشاورت کی جائے گی تاکہ تفصیلی جائزے کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جا سکے۔ انہوں نے فیصل واوڈا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم جیسے حساس امور میں جلد بازی کے بجائے سنجیدہ مشاورت ناگزیر ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ نمبرز کا مسئلہ نہیں ترمیم کی منظوری کے لیے نمبرز پورے ہیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ترمیم کی منظوری کے لیے ویں ا ئینی ترمیم ا ئینی ترمیم کے ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اسلام ا باد فیصل واوڈا کرتے ہوئے حکومت کو ویں ا ئی کے بعد کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن