Jasarat News:
2026-06-03@03:22:27 GMT

آئینی ترمیم: وزرا و ارکان پارلیمنٹ کے غیرملکی دورے منسوخ

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن / صباح نیوز) 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے اہم معاملے کے پیش نظر وزیراعظم نے تمام وفاقی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ کے غیر ملکی دورے فوری طور پر منسوخ کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ تمام وزرا اور پارلیمانی ارکان اسلام آباد میں موجود رہیں تاکہ ترمیم کے حوالے سے اجلاس اور مشاورتی عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد 27 ویں ترمیم کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر مکمل توجہ دینا اور ملکی مفاد میں فوری اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت ترمیم کی منظوری کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورت اور حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہے‘ اس اقدام کے بعد وفاقی کابینہ اور پارلیمانی کمیٹیاں تمام متعلقہ امور پر اسلام آباد میں فوری اجلاس کر رہی ہیں، تاکہ ترمیمی عمل کی رفتار اور ملکی مفاد میں فیصلہ سازی بلا تعطل مکمل ہو سکے۔وزیراعظم شہباز شریف نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اہم ٹاسک دیدیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہاؤس بزنس مشاورتی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 27ویں آئینی ترمیم 14 نومبر کو قومی اسمبلی سے منظور کرائی جائے گی جبکہ ایوان کا موجودہ اجلاس بھی 14نومبر تک جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے دوران ایجنڈے اور شیڈول کی بھی باقاعدہ منظوری دی گئی تاہم تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ پارلیمنٹ سے27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے نمبر گیم اہمیت اختیار کرگیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کے لیے237 ارکان کی حمایت حاصل ہے جب کہ حکومت کو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں۔ قومی اسمبلی میں ن لیگی ارکان کی تعداد 125 اور پیپلز پارٹی کے 74 ارکان ہیں۔ ایم کیو ایم کے 22، پاکستان مسلم لیگ 5، آئی پی پی کے 4 ارکان حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔ ان کے علاوہ ضیا لیگ، نیشنل پارٹی، باپ پارٹی کا ایک ایک رکن اور 4 آزاد ارکان بھی حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد 89 ہے۔ دوسری جانب سینیٹ میں حکمران اتحاد کے اراکین 61 ہیں اور اپوزیشن اراکین کی تعداد 35 ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کے لیے 64 اراکین کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو سینیٹ میں جے یو آئی یا اے این پی کے 3 اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 27 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلاول زرداری کا حق ہے کہ وہ اظہار رائے کریں‘ تمام پارٹیوں سے مشاورت کے بعد جو شکل نکلے گی وہ سامنے لے آئیں گے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 ویں ترمیم وفاق کے لیے خطرہ ہے اور ترمیم کا حق صرف ان اراکین اسمبلی کو حاصل ہے جو مینڈیٹ لے کر آئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پورے ملک میں ہلچل ہے کہ وفاق صوبوں پر حملہ آور ہو رہا ہے، موجودہ حکومت نے 16 نشستوں کے ساتھ حکومت سنبھالی تھی ‘آئین میں ترمیم ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر، وفاقی وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ 27 ویں آئی ترمیم پر حکومت سے ہم نے خود رابطہ کیا، حکومت سمجھتی ہے کہ آئینی ترمیم سے عدالتی نظام میں بہتری آئے گی مگر وقت کا تقاضا ہے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ اسلام آباد میں ایم کیو ایم رہنماؤں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور امین الحق نے27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ آزاد سینیٹر فیصل واوڈا نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال اور 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیصل واوڈا نے مولانا فضل الرحمن کو مجوزہ ترمیم سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور پارلیمانی نظام میں مولانا کا ہمیشہ اہم اور متوازن کردار رہا ہے، اور امید ہے کہ وہ اس بار بھی مثبت کردار ادا کریں گے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے جواب میں کہا کہ جے یو آئی ایک ذمہ دار پارلیمانی جماعت ہے جو آئین کی محافظ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک آئینی ترمیم کا مسودہ سامنے نہیں آتا، اس پر کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔ مولانا نے مزید کہا کہ مسودہ سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کی پارلیمانی پارٹی، قانونی ٹیم اور شوریٰ سے مشاورت کی جائے گی تاکہ تفصیلی جائزے کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جا سکے۔ انہوں نے فیصل واوڈا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم جیسے حساس امور میں جلد بازی کے بجائے سنجیدہ مشاورت ناگزیر ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ نمبرز کا مسئلہ نہیں ترمیم کی منظوری کے لیے نمبرز پورے ہیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ترمیم کی منظوری کے لیے ویں ا ئینی ترمیم ا ئینی ترمیم کے ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اسلام ا باد فیصل واوڈا کرتے ہوئے حکومت کو ویں ا ئی کے بعد کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے