ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ضرروی، نیتن یاہو
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 26 ستمبر 2025ء) اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے امریکہ کی مدد سے ایران کے جوہری ہتھیار اور بیلسٹک میزائل پروگرام تباہ کر دیے ہیں اور اسے دوبارہ عسکری جوہری صلاحیتیں حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر عام مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اور امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران میں جوہری افزودگی کے مقامات کو بمباری کے ذریعے نشانہ بنایا۔
وہ اس جرات مندانہ اور فیصلہ کن اقدام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشکور ہیں۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ضروری ہے اور اس پر سلامتی کونسل کی پابندیاں دوبارہ نافذ کی جانا چاہئیں۔(جاری ہے)
نیتن یاہو نے دعائے نفرکے عنوان والا پوسٹر لہراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال بھی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں یہی تصویر دکھائی تھی جو ایران کی قیادت میں دہشت گردی کے محور کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ محور پوری دنیا کے امن، مشرق وسطیٰ کے استحکام اور اسرائیلی قوم کے وجود کے لیے خطرہ تھا۔اسرائیل مخالفین کا خاتمہاسرائیل کے وزیراعظم نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں اور بعد ازاں لبنان، شام اور یمن سے کی گئی عسکری کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے حوثیوں کو سخت نقصان پہنچایا، حماس کی دہشت گرد مشینری کے بیشتر حصے کو کچل دیا، حزب اللہ کو معذور کر دیا، شام میں اسد حکومت کے ہتھیار تباہ کیے اور عراق میں ایران کی شیعہ ملیشیاؤں کو کسی کارروائی سے باز رکھا۔
متعدد مخالفین کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یمن میں حوثیوں کی نصف قیادت، غزہ میں یحییٰ سنوار اور لبنان میں حسن نصراللہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ شام میں اسد حکومت کا نظام ختم ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عراق کی ملیشیاؤں کے رہنماؤں نے اسرائیل پر حملہ کیا تو وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ ایران کے فوجی کمانڈر اور بم بنانے والے سائنسدان بھی ختم ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کہا کہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔