فلسطین سے یکجہتی، بھارتی جارحیت کا جواب ، شہباز شریف کا یو این خطاب
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کا آغاز قرآنِ مجید کی آیتِ مبارکہ سے کرتے ہوئے کیا اور مظلوم فلسطینی عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام دہائیوں سے ظلم و ستم کا سامنا کر رہے ہیں، عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بربریت کو ختم کرے اور فلسطین کو آزادی اور حقِ خود ارادیت دلائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا ایسا فیصلہ کن جواب دیا جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی فضائیہ کے 7 جنگی طیارے مار گرائے، جس پر جنرل اسمبلی کا ایوان “پاکستان زندہ باد” کے نعروں سے گونج اُٹھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور عزم کی واضح مثال ہے کہ ہم اپنے ملک کی خودمختاری اور سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے بروقت اور مؤثر مداخلت کرکے جنگ بندی کو ممکن بنایا، جس سے خطے میں بڑے انسانی المیے کو روکا گیا، پاکستان صدر ٹرمپ کے اس امن کردار پر انہیں نوبیل انعام دینے کی سفارش بھی کرتا ہے تاکہ عالمی سطح پر قیامِ امن کے لیے ان کی کاوشوں کو تسلیم کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن اور مکالمے کا داعی رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خطے اور دنیا کے مسائل کا پائیدار حل صرف سفارتکاری اور بامقصد مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے یکساں اور غیر جانبدار کردار ادا کریں تاکہ دنیا کو جنگوں اور کشیدگی سے بچایا جا سکے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک بار پھر فلسطین اور کشمیر کے عوام سے یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کے حقوق کی جدوجہد میں ہمیشہ ساتھ کھڑا رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔