ویب ڈیسک: پاکستان میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے خواہش مند افراد کیلئے  وزیراعظم کی نئی اسکیم کے تحت الیکٹرک موٹر سائیکلیں اب آسان اقساط پر اور بغیر کسی مارک اپ کے دستیاب ہیں۔

اس اسکیم کے تحت خریدار دو سالہ مدت میں 24 آسان ماہانہ اقساط میں ادائیگی کر سکتے ہیں جبکہ ہر الیکٹرک بائیک کے ساتھ 4 سال یا 50 ہزار کلومیٹر تک کی وارنٹی بھی دی جا رہی ہے جو اس کی پائیداری اور معیار کی ضمانت ہے۔

آسٹریلوی کرکٹر ایلکس کیری کے والد چل بسے

حکومت کا یہ اقدام پاکستان میں مقامی انڈسٹری کو فروغ دینے، آلودگی میں کمی لانے اور پائیدار ٹرانسپورٹ کو عام کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ اسکیم خاص طور پر ان افراد کے لیے فائدہ مند ہے جو سستی، ماحول دوست اور جدید سواری چاہتے ہیں۔اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے خواہشمند افراد کو  درج ذیل ویب سائٹ پر جا کر اپنی آن لائن رجسٹریشن مکمل کرنی ہوگی۔

درخواست دہندگان ذاتی تفصیلات،شناختی کارڈ کی معلومات، رابطے کی معلومات، اور موجودہ رہائشی اور مستقل پتے فراہم کر کے https://pave.

gov.pk/register پر آن لائن رجسٹر ہو سکتے ہیں۔

سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے خصوصی سہولت کا اعلان

حکومت نے اس پورے عمل کو عام شہریوں کے لیے نہایت آسان اور قابل رسائی بنایا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس اسکیم سے مستفید ہو سکیں۔

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم