امت مسلمہ فلسطین کی آزادی کیلیے جہاد کا اعلان کرے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250922-11-10
سکھر (نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے رہنما علامہ حزب اللہ جکھرو نے کہا ہے کہ امت مسلمہ فلسطین کی آزادی کیلئے متحد ہوکر اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کرے اور قبلہ اول مسجد اقصی کو آزاد کراکے ایمانی غیرت کا ثبوت دے ۔وہ مدرسہ تعلیم القرآن جندودیرو میں بزم قرآن جمعیت طلبہ عربیہ سندھ کی لبیک یا اقصی کانفرنس سے صدارتی خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک اسرائیل سے سفارتی تعلقات اور تجارتی معاہدے فوری طور پر ختم کردیں، مصر فوری طور رفحہ بارڈر مہاجرین کیلئے کھول دے،عالم اسلام کے اہل ثروت غزہ کے مسلمانوں کی مدد کریں وہاں جاری ،غذائی قلت دور کریں۔انہوں نے کہا کہ 70 ہزار شہدا فلسطین کا خون رنگ لائے گا، ان شاء اللہ اسرائیل نیست ونابود ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک غیرت کا مظاہرہ کریں اور اسرائیل کے سرپرست امریکا سے تعلقات ختم کردیں۔امریکا کے یہودی وزرا اور یہودی کمپنیان اسرائیل کی سپورٹ کررہے ہیں ،امریکی اسلحہ استعمال ہورہا ہے، غزہ کے مسلمان بے یارو مددگار ہوگئے ہیں ،لیکن اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے 60 مسلم ممالک کی افواج اسرائیل میں اتاری جائے، اسرائیل ناجائز اور غنڈہ ریاست ہے،لیکن مسلم حکمران ڈرپوک بنے بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے مسلمان ،مجاہدین تنہا نہیں 2ارب مسلمان ان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ جب مسلم حکمران قبل اول کو نہیں بچاسکتے تو لاکھوں افواج کس کام کی ہیں ،الحمدللہ جماعت اسلامی الخدمت کی صورت میں غزہ میں موجود ہے ،فلسطین کا حل ایک ہی ہے کہ یہودی نکل جائیں اور فلسطین کی حکمرانی قائم کی جائے ، دو ممالک حل نہیں یہ دشمن کی چال ہے۔اس موقع پر عبدالرحمن منگریواور عبدالمنان بھٹو نے بھی خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی