اترپردیش میں تین مسلم نوجوانوں کو فلسطینیوں کیلئے رقم بھیجنے پر گرفتار کیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
سینیئر پولیس انسپکٹر ونائک گائیکواڈ نے بتایا کہ اترپردیش کے انسداد دہشتگردی دستہ (اے ٹی ایس) نے تینوں مسلم نوجوانوں کو رات دیر گئے گرفتار کیا اور مزید تفتیش کیلئے لکھنؤ میں اے ٹی ایس کے دفتر لے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ اترپردیش پولیس کے انسداد دہشتگردی اسکواڈ (یو پی اے ٹی ایس) نے تھانے کے ممبئی سے ملحقہ علاقے کے بھیونڈی ضلع سے تین نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان تینوں مسلم نوجوانوں پر تقریباً 3 لاکھ روپے جمع کر کے فلسطین بھیجنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔ تفتیشی ادارے تینوں مشتبہ نوجوانوں سے وسیع پیمانے پر پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ یو پی اے ٹی ایس نے سنیچر کی دیر رات بھیونڈی کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے اور تین نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ ان کی شناخت محمد آیان، محمد حسین، تجمل انصاری اور عبدالقادر کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ بھیونڈی سے لاکھوں روپے فلسطین بھیجے جا رہے تھے۔ اس کے بعد اترپردیش انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کی ایک ٹیم جمعہ کو بھیونڈی پہنچی اور تحقیقات شروع کی۔ دن بھر نوجوانوں پر نظر رکھنے کے بعد، ٹیم نے ہفتے کی دوپہر بھیونڈی شہر کے گلزار نگر علاقے میں ایک عمارت پر اچانک چھاپہ مارا۔
سینیئر پولیس انسپکٹر ونائک گائیکواڈ نے بتایا کہ اترپردیش کے انسداد دہشتگردی دستہ (اے ٹی ایس) نے تینوں نوجوانوں کو ہفتے کی رات دیر گئے گرفتار کیا اور مزید تفتیش کے لئے لکھنؤ میں اے ٹی ایس کے دفتر لے گئے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ ہفتے دہلی پولیس نے ایک مشتبہ دہشت گرد آفتاب قریشی کو امبرناتھ تعلقہ کے نیوالی ناکہ علاقے سے گرفتار کیا تھا۔ مقامی ہل لائن پولیس نے آفتاب قریشی کے گھر کی تلاشی بھی لی۔ اسے گرفتار کر کے مزید تفتیش کے لئے دہلی لے جایا گیا۔ اس کے بعد بھیونڈی کے ان تین نوجوانوں پر ملک مخالف مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں ان سے بڑے پیمانے پر پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نوجوانوں کو گرفتار کیا اے ٹی ایس
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔