کینوا نے نیا ڈیزائن ماڈل اور جدید اے آئی فیچرز متعارف کرا دیے
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
عالمی سطح کے گرافک ڈیزائن پلیٹ فارم کینوا نے اپنا جدید ڈیزائن ماڈل متعارف کروا دیا ہے اور ساتھ ہی نئے اے آئی فیچرز بھی شامل کیے ہیں، تاکہ صارفین تیزی سے اور آسانی سے تخلیقی ڈیزائن تیار کر سکیں۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹس کے مطابق، یہ نیا ماڈل صرف تصاویر بنانے تک محدود نہیں ہے بلکہ ڈیزائن کی مختلف لیئرز، عناصر اور فارمیٹس کو بھی سمجھتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ صارف اب ڈیزائن کے ہر جزو میں تبدیلی کر سکتا ہے۔
کینوا کے نئے اے آئی ٹولز کی مدد سے صارف مختصر ہدایات (prompts) دے کر مکمل اشتہار، سوشل میڈیا پوسٹ یا ای‑میل ٹیمپلیٹ تیار کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیزائن کے اندر موجود اے آئی اسسٹنٹ صارف کی رہنمائی بھی فراہم کرے گا، تاکہ تخلیقی عمل مزید آسان اور تیز ہو جائے۔
خصوصی طور پر چھوٹے کاروبار اور ٹیموں کے لیے بھی کینوا نے سہولیات فراہم کی ہیں، جن میں مارکیٹنگ مہمات کا انتظام، اشتہارات کی منیجمنٹ اور تجزیاتی ٹولز شامل ہیں۔
نیا ماڈل اب عام صارف کے لیے بھی ڈیزائن بنانا آسان کر دیتا ہے، اور انہیں مہنگے پروفیشنل ٹولز یا زیادہ تکنیکی علم کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کے ذریعے وہ کم وقت اور کم محنت سے معیاری مواد تخلیق کر سکتے ہیں۔
کاروباری حضرات اور سوشل میڈیا منیجرز کے لیے یہ خوشخبری ہے کہ اب وہ تیزی سے نتائج حاصل کر سکیں گے، اور ڈیزائن میں تبدیلی یا ترمیم بھی آسان ہو گئی ہے، کیونکہ نیا ماڈل صارف کو ڈیزائن کے ہر حصے میں کنٹرول فراہم کرتا ہے۔
اگرچہ بنیادی فیچرز سب کے لیے دستیاب ہوں گے، لیکن کچھ اعلیٰ درجے کے ٹولز صرف پرو صارفین کے لیے مخصوص رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثناءاللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے۔ اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے عناصر کو اخلاقیات، دیانت داری اور شفافیت پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ ہوش کے ناخن لیں اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد بیانات دینے سے گریز کریں کیونکہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہر الزام اور ہر بیان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ کے خلاف زہر اگلنے والوں کو پہلے شریف خاندان کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر معاملات کا جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی رہنما اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں، جبکہ ان کی سیاست ہمیشہ سہاروں، ڈیلز اور مفاہمت پر قائم رہی ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے وسائل پر نظر رکھنے والے سیاسی عناصر پہلے اپنے طرزِ سیاست کا جائزہ لیں، جس جماعت کی بنیاد، ان کے بقول، جمہوری اقدار کی مخالفت پر استوار رہی ہو، وہ پیپلز پارٹی کو عوامی مینڈیٹ اور سیاسی شعور کا درس نہ دے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ عوام اب سیاسی نعروں اور الزامات کی سیاست سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافے کے بعد اس نوعیت کی سیاست مزید کامیاب نہیں ہو سکے گی۔