ٹک ٹاک صارفین کے لیے نئے سبسکرپشن ماڈل سے زیادہ کمائی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے اپنے سبسکرپشن ماڈل میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جس کے بعد صارفین اپنی کمائی میں نمایاں اضافہ کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق اب صارفین سبسکرپشن سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 90 فیصد حصہ کما سکیں گے، جو موجودہ 70 فیصد کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔
ٹک ٹاک کی جانب سے اس نئے ماڈل کے لیے چند شرائط متعین کی گئی ہیں۔ سب سے پہلے صارف کے فالوورز کی تعداد کم از کم 10 ہزار ہونی چاہیے، گزشتہ ماہ اس کی ویڈیوز کے مجموعی ویوز کم از کم ایک لاکھ ہونے چاہیے، اور اسی ماہ اس نے 3 یا اس سے زائد سبسکرپشن اونلی ویڈیوز پوسٹ کی ہوں۔ کمپنی کے مطابق جتنا زیادہ تسلسل کے ساتھ صارف مواد تخلیق کرے گا، اتنی زیادہ کمائی ممکن ہوگی۔
ٹک ٹاک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سبسکرپشن سے صارفین مضبوط کمیونٹیز تشکیل دے سکتے ہیں اور ماہانہ سبسکرپشن فیس کے ذریعے ان کے فالوورز کو خصوصی مراعات جیسے اسپیشل بیجز، سبسکرائبر اونلی پوسٹس، چیٹ فیچرز اور دیگر خصوصی مواد تک رسائی حاصل ہوگی۔
یہ تبدیلی ابتدائی طور پر امریکا اور کینیڈا میں نافذ کی جا رہی ہے، تاہم کمپنی نے وعدہ کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں اسے دیگر ممالک میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔ فی الحال عالمی سطح پر ٹک ٹاک سبسکرپشن پروگرام کے تحت صارفین کو 50 فیصد آمدنی کا حصہ دیا جاتا ہے، جسے نئے ماڈل کے تحت 70 فیصد تک بڑھا دیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف کریئٹرز کی کمائی میں اضافہ ہوگا بلکہ صارفین اور کریئٹرز کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے اور ٹک ٹاک پلیٹ فارم پر مخصوص کمیونٹیز کے فروغ میں مدد ملے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاک
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔