پنجاب کے وزیر برائے آب پاشی کاظم پیر زادہ نے کہا ہے کہ اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی ٹیمیں پوری طرح متحرک ہیں، اور جلالپور پیر والا کو بچانے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خود جلالپور شہر اور متعلقہ علاقے کی ہر گھنٹے کے بعد رپورٹ لے رہی ہیں۔

کاظم پیر زادہ نے بتایا کہ اریگیشن ڈیپارٹمنٹ مختلف مقامات پر پانی کی ولاسٹی اور پھیلاؤ کو گیج کے ذریعے مسلسل مانیٹر کررہا ہے۔ ٹیکنیکل کمیٹی نے نوراجہ اور بھٹہ بند کو دوبارہ مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں اطراف سے کام شروع کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں، وزیراعلیٰ پنجاب کی ٹیم روانہ

انہوں نے مزید کہاکہ لودھراں والی سائیڈ پر اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی مشینری کل رات سے راستہ بنا رہی ہے کیونکہ بند کی ایک سائیڈ پر موجود پانی کی وجہ سے یہ اقدام ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موٹروے والی سائیڈ پر موجود شگاف کو پُر کرنے کے لیے ہیوی مشینری پہنچ چکی ہے اور دونوں اطراف سے کام جاری ہے۔ اریگیشن کی ٹیکنیکل ٹیم ہر گھنٹے بعد پانی کے ذخیرے کی صورتحال مانیٹر کر رہی ہے۔

کاظم پیر زادہ نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جلالپور شہر محفوظ رہے گا، اور انشااللہ اب جلالپور شہر سیلابی پانی سے مزید متاثر نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ موٹروے کی طرف جانے والا پانی بھی بتدریج کم ہو رہا ہے، اور دونوں سائیڈ کے 6 شگاف پُر کرنے کا عمل بہت جلد شروع ہو جائے گا، جس کے بعد انشااللہ صورتحال نارمل ہو جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ سیلاب کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی بھائی بے گھر ہوئے اور انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔ سیلاب آنے پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خود جا کر سیلاب متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا، اور نہ صرف انتظامیہ، اریگیشن، ریسکیو بلکہ اپنے اراکین اسمبلی کو بھی ریسکیو آپریشن کے لیے متحرک کیا۔

کاظم پیر زادہ کے مطابق علی پور اور جلالپور پیر والا سے 70 سے 90 فیصد آبادی متاثر ہوئی ہے، اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں مریم اورنگزیب کی سربراہی میں وزارتی ٹیم کو 10 دن کے لیے علی پور بھیجا گیا، جس میں خواجہ سلمان رفیق، رانا سکندر حیات، صہیب بھرت اور کاظم پیر زادہ شامل تھے۔

’ٹیم نے دن رات کام کیا اور مریم اورنگزیب نے جلالپور میں اپنی نگرانی میں ریسکیو آپریشن کرایا۔ وزارتی ٹیم پوری آبادی کے ریسکیو ہونے تک علاقے میں موجود رہی۔‘

انہوں نے کہاکہ علی پور میں حالات بہت خراب تھے، مگر انخلا آپریشن کی ضرورت نہیں تھی، ریلیف آپریشن درکار تھا۔ وہاں لوگوں کو خوراک اور امدادی سامان کی فوری ضرورت تھی۔ وزارتی ٹیم نے سلطان پور، شہبازپور اور دیگر مقامات پر 15،15 گھنٹے امدادی سامان کی ترسیل کی نگرانی کی اور ٹیم لیڈر کے ہمراہ سیلاب زدگان کے ساتھ وقت گزارا۔

کاظم پیر زادہ نے مزید کہاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دریاؤں میں پانی کم ہو رہا ہے، تاہم لودھراں اور جلالپور کے ساتھ ہوتا ہوا حفاظتی بند موٹروے تک آتا ہے، جس میں شگاف پڑنے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ زمیندارہ بند ٹوٹنے سے موٹروے کی بائیں سائیڈ تک پانی پہنچنا شروع ہوگیا۔

انہوں نے کہاکہ صورتحال کا علم ہوتے ہی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے خصوصی ویڈیو لنک میٹنگ کے ذریعے این ایچ اے، سوئی گیس سمیت تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ اریگیشن ڈیپارٹمنٹ سے موٹروے کے نیچے سے گزرنے والے پانی کی ولاسٹی اور پھیلاؤ کے بارے میں رپورٹ طلب کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی موجودگی میں اجلاس میں ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں این ایچ اے، سوئی گیس، ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ، پولیس ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔ یہ کمیٹی روزانہ میٹنگ کرکے پانی کی صورتحال مانیٹر کر رہی ہے۔

کاظم پیر زادہ نے کہا کہ پنجاب کے ہر شہری کو مطمئن ہونا چاہیے کہ پنجاب کے تمام وسائل کا رخ سیلاب زدگان کی طرف ہے۔ سیلاب زدگان کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا عزم غیر متزلزل ہے، اور ان کی موجودگی میں سیلاب متاثرین کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ انشااللہ سیلاب زدگان بہت جلد اپنے علاقوں میں واپس جائیں گے اور انہیں محفوظ مقامات پر آباد کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف بہت جلد بحالی پروگرام کا اعلان کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: سیلابی ریلے پنجاب کے بعد سندھ میں داخل، گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، کئی دیہات ڈوب گئے

کاظم پیر زادہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر اڑنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں۔ بہاولپور کے سیلاب زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار نہ دینے کی افواہیں درست نہیں ہیں، بلکہ بہاولپور بھی آفت زدہ علاقوں میں شمار ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کسی بھی سیلاب زدہ علاقے اور فرد کو نظر انداز نہیں کریں گی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے منصوبوں کی رفتار کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پنجاب ذمہ دار اور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اقدامات جاری پنجاب میں سیلاب جلال پور پیر والا سیلابی پانی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقدامات جاری پنجاب میں سیلاب جلال پور پیر والا سیلابی پانی وی نیوز کاظم پیر زادہ نے مریم نواز شریف انہوں نے کہاکہ مریم اورنگزیب انہوں نے کہا پور پیر والا سیلاب زدگان پنجاب کے پانی کی کے لیے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان