پنجاب میں شفاف منصوبے اور فلاحی اقدامات جاری ہیں، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
سٹی42:وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین میں اب تک 10 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں جبکہ پنجاب حکومت کے تمام منصوبے کرپشن سے پاک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی کی کارکردگی (KPI) مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور صوبے میں صفائی کا تاریخی نظام قائم ہے، جہاں ایک لاکھ 40 ہزار 400 ورکرز اور 2 ہزار افسران خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آئی سی سی سہ ماہی اجلاس کا آغاز آج سے دبئی میں ہو گا
صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمی بخاری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج سے وزیراعلی پنجاب کے کاموں کی تفصیلات دی جائیں گی، ان کا کہنا تھا کہ آج سولہ منصوبوں بارے معلومات فراہم کروں گی،صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بہت سے کام ایسے ہیں جن کا کبھی اعلان بھی نہیں کیا گیا، دس ملین سے زائد روپے سیلاب متاثرین میں بانٹے جا چکے ہیں، سیلاب آنے کے دو ماہ کے اندر اندر تمام لوگوں کو مالی معاونت فراہم کر دی جائے گی۔
سال 2025 کا روشن ترین سپر مون کل رات آسمان پر نمودار ہوگا
اپنی چھت اپنا گھر پراجیکٹ:
اُن کا کہنا ہے کہ ’’اپنی چھت اپنا گھر پراجیکٹ‘‘ کے تحت ایک لاکھ 4ہزار 8سو خاندانوں کو قرضہ فراہم کر دیا گیا ہے، اس منصوبے کے تحت 30ہزار گھر بن چکے ہیں، اس منصوبے کے تحت روزانہ 290 گھر بن رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ واسا کا توسیعی منصوبہ بھی شروع کیا گیا، پنجاب کے 38 شہروں میں واسا کو پھیلایا گیا۔عظمیٰ بخاری نے مزید بتایا کہ مئی سے اکتوبر تک گھروں کی تعمیر میں 588 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ واسا کی 14 نئی ایجنسیاں قائم کی جا چکی ہیں، جس سے مجموعی تعداد دسمبر تک 38 ہو جائے گی۔
پھلوں اور سبزیوں کی آج کی ریٹ لسٹ ۔منگل 04نومبر ، 2025
ستھرا پنجاب:
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں اب تک 94 لاکھ 4 ہزار ٹن ویسٹ ٹھکانے لگایا جا چکا ہے جبکہ “ستھرا پنجاب” پروگرام اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا صفائی منصوبہ ہے۔
الیکٹرک بسوں:
وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکٹرک بسوں کے فیز ٹو کا آغاز ہو چکا ہے، جس کے تحت 200 نئی بسیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ فیز ٹو میں بہاولپور، راجن پور اور گجر خان کو بسیں دی جائیں گی، جبکہ دسمبر تک پنجاب کے 42 شہروں کو 1100 بسیں فراہم کر دی جائیں گی۔ ان کے مطابق روزانہ 8 لاکھ لوگ الیکٹرک بسوں اور 4 میٹرو سروسز کے ذریعے 9 لاکھ مسافر سفر کر رہے ہیں۔
غزہ میں 2 سال بعد تعلیمی سرگرمیاں بحال، اسکولوں میں پھر سے رونق لوٹ آئی
سموگ کی شدت:
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ رواں سال سموگ کی شدت پچھلے سال کے مقابلے میں کم رہی۔ معذور افراد کو 1 ارب روپے کی خطیر رقم سے 17 سے زائد اقسام کے معاون آلات فراہم کیے گئے ہیں۔ لائیو اسٹاک پروگرام کا فیز ون مکمل اور فیز ٹو شروع ہو چکا ہے۔
الیکٹرک بائیکس:
انہوں نے بتایا کہ 27 ہزار طلبا و طالبات کو بلاسود بائیکس دی گئیں، جن میں 8200 الیکٹرک بائیکس طالبات استعمال کر رہی ہیں۔ مریم نواز نے یتیم بچوں کو مفت ای بائیکس فراہم کیں۔ اب تک 1 لاکھ 4 ہزار 800 خاندانوں کو قرض فراہم کیا گیا ہے، جبکہ 30 ہزار گھر مکمل اور 90 فیصد گھر تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
ڈاکٹر نے محبوبہ کی خاطر اہلیہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا
دھی رانی پروگرام:
انہوں نے کہا کہ “دھی رانی پروگرام” کے تحت فیز تھری میں 5 ہزار اجتماعی شادیاں کرائی گئیں۔ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت 7 ہزار سے زائد بچوں کی کامیاب سرجری کی جا چکی ہے، جبکہ فیلڈ ہسپتالوں سے ہزاروں مریض مستفید ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بی ایچ یو اور آر ایچ سی مراکز میں اب جدید سہولیات دستیاب ہیں۔ چین کے تعاون سے کینسر کا نیا علاج متعارف کرایا جا رہا ہے، سرگودھا میں کارڈیالوجی ہسپتال مکمل ہونے کے قریب ہے اور پنجاب کا کینسر ہسپتال اگلے ماہ مکمل ہو کر ایمرجنسی سروسز شروع کرے گا۔
کسان کارڈ:
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ 10 لاکھ سے زائد کسانوں کو کسان کارڈ فراہم کیے جا چکے ہیں، جن میں 100 ارب روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔ زرعی ٹیوب ویل کی سولرائزیشن اور گرین ٹریکٹر پروگرام فیز ٹو کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز اور مریم نواز کی ٹیلی فونک گفتگو لیک ہونے پر ہم ڈیفیمیشن کورٹ جائیں گے، جس نے گفتگو پروی لاگ کی وہ قانونی کارروائی کے لیے تیار رہے۔
صحت کارڈ:
عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج بالکل فری ہے، صحت کارڈ کی ضرورت نہیں جبکہ پی آئی سی فیز ٹو کا افتتاح جلد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خاتمے سے چند افراد کو نقصان ضرور ہوا، مگر اس سے ہزاروں شہریوں کو فائدہ پہنچا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات فراہم کر فراہم کی کیا گیا چکے ہیں کا کہنا فیز ٹو کے تحت
پڑھیں:
سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
لاہور: پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی ملازمتیں حاصل کرنے کے خواہشمند امیدواروں کے لیے خوشخبری سامنے آئی ہے۔ پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی (PEIMA) نے مختلف شعبوں میں 31 کنٹریکٹ بنیادوں پر آسامیوں کا اعلان کر دیا ہے، جہاں منتخب امیدواروں کو ماہانہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے سے لے کر سات لاکھ 50 ہزار روپے تک تنخواہ دی جائے گی۔
اتھارٹی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق بھرتیاں ایڈمنسٹریشن، فنانس، پروگرامز، اکیڈمکس، ریسرچ، آئی ٹی، ڈیٹا مینجمنٹ، پارٹنرشپ، مانیٹرنگ اور دیگر اہم شعبوں میں کی جائیں گی۔ ان اسامیوں کے لیے تجربہ کار اور پیشہ ور امیدواروں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔
ڈائریکٹر سطح کے مختلف عہدوں کے لیے امیدوار کی عمر 35 سے 55 سال کے درمیان ہونی چاہیے جبکہ کم از کم 16 سالہ تعلیم اور متعلقہ شعبے میں 10 سال کا تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان عہدوں پر کامیاب امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ 7 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔
اسی طرح چیف آڈٹ آفیسر، ڈیٹا اینالسٹ اور ڈیٹا انجینئر کی بھی ایک، ایک آسامی دستیاب ہے۔ ان عہدوں کے لیے عمر اور تجربے کی الگ شرائط مقرر کی گئی ہیں تاکہ موزوں امیدواروں کا انتخاب کیا جا سکے۔
مزید برآں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن، فنانس، ٹریننگ، مانیٹرنگ اور دیگر شعبوں کی آسامیوں پر 2 لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی گئی ہے، جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی اینڈ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے تنخواہ 3 لاکھ روپے ماہانہ رکھی گئی ہے۔ ان عہدوں کے لیے 16 سالہ تعلیم اور کم از کم 3 سال کا متعلقہ تجربہ ضروری ہوگا۔
اتھارٹی نے اسسٹنٹ اور اسسٹنٹ آئی ٹی کی متعدد آسامیوں کا بھی اعلان کیا ہے، جن کے لیے کم از کم ایک سال کا عملی تجربہ درکار ہوگا۔
تعلیمی قابلیت
درخواست دینے والے امیدواروں کے پاس ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تسلیم شدہ ادارے کی ڈگری ہونی چاہیے۔ متعلقہ شعبوں میں بزنس ایڈمنسٹریشن، فنانس، اکاؤنٹنگ، پبلک ایڈمنسٹریشن، ایجوکیشن، سوشل سائنسز، کمپیوٹر سائنس، ڈیٹا سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر انجینئرنگ سمیت دیگر مضامین قابل قبول ہوں گے۔
درخواست کیسے جمع کرائیں؟
امیدوار پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے پنجاب حکومت کے سرکاری جاب پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ ڈاک، ای میل یا کوریئر کے ذریعے بھیجی گئی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔
سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والے امیدواروں کو اپنے متعلقہ ادارے کے ذریعے درخواست جمع کرانا ہوگی اور ضرورت پڑنے پر این او سی بھی فراہم کرنا ہوگا۔