خیبر پختونخوا پولیس کا بڑا اقدام، لیزر سسٹم سے لیس جدید ڈرون تیار
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا پولیس نے سیکیورٹی آپریشنز کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہائی ٹیک ڈرون تیار کرلیا ہے جو لیزر سسٹم، نائٹ وژن کیمروں اور مارٹر شیلز سے مسلح ہے۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق یہ ڈرون لیزر ماپنے کے نظام، حرارتی کیمروں، ٹیئر گیس شیلز اور مارٹر گولوں سے لیس ہے، جو دن اور رات دونوں اوقات میں آپریشن کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پولیس کے بیان میں بتایا گیا کہ یہ ڈرون 10 کلو میٹر کے دائرے میں مسلسل ایک گھنٹے تک 36 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے۔ اس کا وزن 55 کلوگرام، لمبائی دو میٹر اور زیادہ سے زیادہ پرواز کی بلندی ایک ہزار میٹر ہے۔
سی پی او کے مطابق یہ ڈرون 10 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں 6 عدد 61 ملی میٹر اور 4 عدد 81 ملی میٹر مارٹر گولے لادے جا سکتے ہیں، جب کہ لیزر سسٹم 30 سے 1800 میٹر تک فاصلے کی درست پیمائش کر سکتا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جدید آٹو انفارمیشن سسٹم سے لیس یہ ڈرون سیکیورٹی آپریشنز میں نگرانی، ہدف کی نشاندہی اور ہجوم پر قابو پانے جیسے مقاصد کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل یہ ڈرون سے لیس
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔