اسرائیل جارحانہ کارروائیوں سے مشرق وسطیٰ کو تباہ کرنیکی کوشش کر رہا ہے، سرگئی لاوروف
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں روسی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ روس کے خلاف کسی بھی کارروائی کا فیصلہ کُن جواب دیا جائے گا، روس یوکرین تنازع کی دیانت دارانہ امن بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنی جارحانہ کارروائیوں سے مشرق وسطیٰ کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف غیر قانونی طاقت کا استعمال کر رہا ہے اور ایران، قطر، لبنان، شام، یمن اور عراق میں جارحیت کر رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے اوپر پابندیاں دوبارہ لگوانے کی کوششیں غیر قانونی ہیں۔
بھارت سے تجارت کے حوالے سے سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ روس اور بھارت کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس پر نیٹو اور یورپی ممالک کے خلاف کارروائی کا منصوبہ بنانے کا الزام غلط ہے، صدر پیوٹن بھی اس کی تردید کرچکے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ روس کے خلاف کسی بھی کارروائی کا فیصلہ کُن جواب دیا جائے گا، روس یوکرین تنازع کی دیانت دارانہ امن بات چیت کے لیے تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ کر رہا ہے کے خلاف کہ روس
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔
وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔
مزید :