برکس ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں ایرانی شہری مقامات سمیت پرامن ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے "اس مسئلے کو حل کرنے" کا مطالبہ کیا ہے اسلام ٹائمز۔ برکس گروپ کے وزرائے خارجہ نے گذشتہ روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر اپنا سالانہ اجلاس منعقد کیا جس کے آخر میں بین الاقوامی مسائل پر 59 نکاتی بیان بھی جاری کیا گیا۔ اپنے بیان میں برکس اراکین نے غاصب اسرائیلی رژیم کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت کی شدید مذمت کی اور پیراگراف 24 میں کہا ہے کہ وزراء نے 13 جون 2025 کے روز اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف انجام پانے والے فوجی حملوں کی مذمت کی ہے کہ جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں جبکہ برکس وزرائے خارجہ نے مشرق وسطی کی سلامتی میں بگاڑ پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہار کیا۔
اس بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ برکس وزرائے خارجہ نے، آئی اے ای اے کی مکمل نگرانی میں کام کرنے والے اس غیر فوجی بنیادی ڈھانچے اور پرامن جوہری تنصیبات پر جان بوجھ کر کئے گئے حملوں کہ جو بین الاقوامی قانون اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی متعلقہ قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی پر مبنی تھے، پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برکس وزرائے خارجہ نے تاکید کی کہ جوہری تحفظات، حفاظت اور سلامتی کا مسلح تنازعات نیز لوگوں اور ماحول کی حفاظت کے دوران، ہمیشہ احترام کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے علاقائی چیلنجوں سے نپٹنے کے لئے سفارتی اقدامات کی حمایت پر زور دیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے، اس مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ