data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی ایک خاتون کی موجودگی نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں سوالات پیدا  کیے ہیں۔

دفتر خارجہ نے سوالات سامنے آنے پر باضابطہ وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ متعلقہ خاتون پاکستان کے وفد کا حصہ نہیں تھیں اور نہ ہی ان کے پاس سرکاری اجازت نامہ تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اُن شخصیت کا نام وفد کی فہرست میں شامل نہیں تھا اور نہ ہی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی جانب سے دستخط شدہ سرکاری لیٹر آف کریڈنس میں ان کا ذکر موجود تھا۔

دفتر خارجہ نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ ان کی وزیر دفاع کے پیچھے نشست بھی سرکاری منظوری کے تحت نہیں تھی۔

اس معاملے پر پیدا ہونے والی بحث کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے مؤقف میں کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں تقریر وزیراعظم کی مصروفیات کے باعث انہوں نے کی، تاہم اجلاس میں کون کس کے پیچھے بیٹھتا ہے یہ فیصلہ دفتر خارجہ کی صوابدید ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس خاتون کی موجودگی یا انہیں دی جانے والی نشست سے متعلق سوالات کا جواب دینا اُن کے اختیار میں نہیں بلکہ وزارتِ خارجہ کی ذمہ داری ہے۔

خواجہ آصف نے اس موقع پر فلسطین سے اپنی دیرینہ وابستگی پر بھی زور دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ فلسطین کاز کے ساتھ اُن کا جذباتی تعلق ساٹھ برس پر محیط ہے اور ابو ظبی میں ملازمت کے دوران اُن کے کئی فلسطینی ساتھی اور دوست بنے جن سے آج بھی رابطہ ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اُن کے خیالات اسرائیل اور صہیونیت کے بارے میں ہمیشہ سے سخت اور واضح رہے ہیں اور وہ فلسطینی عوام کی جدوجہد کو اپنا ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ماضی کے بیانات اور ٹوئٹر ہسٹری اس امر کی گواہ ہیں کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان پر کسی قسم کے شکوک و شبہات بےبنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں خاتون کی موجودگی یا اُن کی نشست کے تعین پر اعتراضات کا درست جواب دفتر خارجہ ہی دے سکتا ہے، کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست اُس کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دفتر خارجہ اجلاس میں وزیر دفاع کے پیچھے خارجہ کی انہوں نے کہا کہ ا

پڑھیں:

اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے اور دنیا میں جاری بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے پاکستان کے مسلسل مصالحتی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان روابط و مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو سراہااور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سفارتکاری اور مسلسل مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں جانب نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی بھی توثیق کی اور آئندہ بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلجیم میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نائب صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سفیر کو ہدایت کی کہ وہ اس دورے کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد کی پیروی جاری رکھیں اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کیلئے کوششیں تیز کریں۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت