کرکٹ آسٹریلیا کا باہمی سیریز نہ کھیلنا اسپرٹ آف دی گیم کے منافی ہے‘ اسد اللہ خان
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کابل (اسپورٹس ڈیسک) افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر اور سابق افغان کرکٹر اسد اللہ خان نے کرکٹ آسٹریلیا پربرہمی کا اظہار کیا ہے ۔ افغان چیف سلیکٹر اسد اللہ خان نے ایک بیان میں کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا کا باہمی سیریز نہ کھیلنا اسپرٹ آف دی گیم کے منافی ہے، افغانستان کرکٹ ٹیم کوغیر منصفانہ طورپرٹارگٹ کیا جا رہا ہے، حالیہ افغان ٹیم نے ایلیٹ کرکٹ میں پرفارمنسزکے ساتھ مقام بنایا ہے، افغان ویمن ٹیم نے حالیہ برسوں میں میچز نہیں کھیلے، تبدیلی میں کچھ وقت لگیگا۔اسداللہ خان کا کہنا تھا کہ افغانستان نیکرکٹ کی دنیا میں کامیابی میرٹ کی بنیاد پر حاصل کی ہے، افغانستان ٹیم کو کامیابی فیورٹ ازم یا چیریٹی کی وجہ سے نہیں ملی،کرکٹ آسٹریلیا اور دیگربورڈزکرکٹ کو سیاست سیجوڑ رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ جینٹل گیم کے لیے یہ سب اچھا نہیں ہے۔خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے ستمبر 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد آسٹریلیا نے افغانستان کے ساتھ کوئی دوطرفہ سیریز نہیں کھیلی۔کرکٹ آسٹریلیا نے سب سے پہلے نومبر 2021 میں ہوبارٹ میں شیڈول واحد ٹیسٹ میچ منسوخ کیا تھا، اس کے بعد مارچ 2023 میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والی 3 میچوں کی ون ڈے سیریز بھی منسوخ کر دی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرکٹ آسٹریلیا
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔