40سال کی عمر سے زائد کھلاڑیوں کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، پاکستانی اسکواڈ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (اسپورٹس ڈیسک) پاکستان ویٹرنز کرکٹ ایسوسی ایشن نے آئی ایم سی اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2025 کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے 40 سال سے زائد عمر کے 18 رکنی اسکواڈ کی قیادت جارح مزاج آل رانڈر عبدالرزاق کریں گے۔لیجنڈ بلے باز جاوید میانداد کو ٹیم کا مینٹور نامزد کیا گیا ہے جبکہ جلال الدین ہیڈ کوچ اور اعظم خان ٹیم منیجر ہوں گے۔آئی ایم سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 21 نومبر سے یکم دسمبر تک کراچی میں کھیلا جائے گا۔ ٹیم عبدالرزاق (کپتان) ، فواد عالم (نائب کپتان) ، شاہد آفریدی، ذوالفقار بابر، ہمایوں فرحت(وکٹ کیپر)، سہیل خان، تابش خان، شہریار غنی، ندیم جاوید، عرفان مشتاق، عدنان بیگ ، محمد علی، عاطف مقبول، جاوید منصور، حسن ناصر، محمد سلیمان، طارق محمود، عمران علی پر مشتمل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔