data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر)دادا پارٹنرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے امریلی اسٹیلز لمیٹڈ کے لیے خصوصی مالی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں، جو حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی اور پیچیدہ مالی ری اسٹرکچرنگ میں سے ایک تھی۔امریلی اسٹیلز لمیٹڈ کا ماسٹر ری اسٹرکچرنگ ایگریمنٹ (“ایم آر اے”) کامیابی کے ساتھ 14 اکتوبر 2025 کو مکمل کیا گیا۔ ایم آر اے میں 22.

6 ارب روپے کے قرض کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس میں کمپنی کے 23 میں سے 21 قرض دہندگان کی غیر معمولی شمولیت حاصل ہوئی، جو مجموعی قرض کا 90 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ری اسٹرکچرنگ میں کل 27.9 ارب روپے کی سہولت شامل تھی جو 23 قرض دہندگان کی جانب سے فراہم کی گئی۔ ان میں 12 روایتی بینک (جن میں تین سرکاری ادارے شامل ہیں)،6 اسلامی بینک،5ڈیولپمنٹ فنانس ادارے (ڈی ایف آئز)، اور 7 قرض دہندگان پر مشتمل ایک سنڈیکیشن شامل تھی۔ مجموعی طور پر دس طویل المدتی اور انیس قلیل المدتی قرض دہندگان شامل تھے، جن کے اپنے اپنے کولیٹرل اور سیکیورٹی ڈھانچے تھے۔پاکستان کے نمایاں اسٹیل مینوفیکچررز میں سے ایک، امریلی اسٹیلز، قرض دہندگان کے نئے اعتماد اور مستحکم معیشت کی بنیاد پر پائیدار ترقی حاصل کرنے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔دادا پارٹنرز کے بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر، شہزاد دادا نے اس لین دین پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم اس کلیدی مشاورتی کردار پر فخر محسوس کرتے ہیں اور اپنے مؤکلوں کو پیچیدہ مالی تبدیلیوں میں رہنمائی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس ری اسٹرکچرنگ کی پیچیدگی کے پیش نظر، ہمیں خوشی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک متوازن نتیجہ حاصل ہوا۔ یہ اسٹریٹجک شراکت داریوں کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے اور جدید مالی حل فراہم کرنے کے ہمارے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔

 

 

 

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ری اسٹرکچرنگ قرض دہندگان کے لیے

پڑھیں:

مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر

اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔

اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔

اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔

مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔

نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔

اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔

ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • لنکا پریمیئر لیگ میں کئی پاکستانی اسٹارز بھی شامل
  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق