ڈاکٹر شمع جونیجو کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیوں بٹھایا گیا؟ خواجہ آصف کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وفد میں ڈاکٹر شمع جونیجو کی موجودگی پر وضاحت پیش کر دی۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر شمع جونیجو، اس وقت وزیر اعظم شہباز شریف کے اس وفد کا حصہ ہیں جو اقوام متحدہ کے 80ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کا حصہ ہے۔
مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اقوام متحدہ کے مذکورہ اجلاس کی تصاویر وائرل ہو رہی ہیں جن میں ڈاکٹر شمع جونیجو خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی ہوئی ہیں۔
ان کی وفد میں موجودگی پر تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ وہ ماضی میں اسرائیل کی حمایت میں بیانات دے چکی ہیں۔
تاہم اب وزیر دفاع خواجہ آصف نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خود کے پیچھے ڈاکٹر شمع جونیجو کو بٹھانے کے معاملے پر وضاحت جاری کردی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے خواجہ آصف نے شمع جونیجو کے معاملے پر خود کو بری الذمہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں یہ تقریر وزیر اعظم کیونکہ مصروف تھے اس لیے ان کی جگہ یہ تقریر میں نے کی۔ یہ خاتون یا کس فرد نے میرے پیچھے بیٹھنا ہے، یہ دفتر خارجہ کی صوابدید و اختیار تھا اور ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلسطین کے مسئلہ کے ساتھ میرا 60 سال سے جذباتی لگاؤ اور کمٹمنٹ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر شمع جونیجو خواجہ آصف کے اجلاس
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔