اسرائیل، ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں امریکی شہری گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
امریکی شہری 49 سالہ جیکب پیرل نے مقبوضہ فلسطین میں اس نے فوج کے سابق چیف آف اسٹاف ہرزلیہ حلوی اور صیہونی حکومت کی داخلی سلامتی کے وزیر اتمار بن گورنر جیسی شخصیات سے معلومات اکٹھی کیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی پولیس نے داخلی سلامتی کے ادارے (شاباک) کے ایما پر کارروائی کرتے ہوئے صیہونی نژاد امریکی شہری 49 سالہ جیکب پیرل کو ایران کے لیے جاسوسی کے شبے میں گرفتار کر لیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل 24 کی ویب سائٹ نے یہ خبر شائع کی ہے کہ پیرل نامی یہودی، جو مراکش میں مقیم تھا، جولائی 2025 میں ایرانی خفیہ ایجنسی کی ہدایت پر معلومات اکٹھا کرنے کے لیے مقبوضہ فلسطین گیا تھا۔
تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پہلے ایران کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوششوں میں ناکام رہا تھا اور اس نے خود کارروائی کی تھی۔ مقبوضہ فلسطین میں اس نے فوج کے سابق چیف آف اسٹاف ہرزلیہ حلوی اور صیہونی حکومت کی داخلی سلامتی کے وزیر اتمار بن گورنر جیسی شخصیات سے معلومات اکٹھی کیں اور مختلف مقامات کی تصاویر لیں۔ دعوے کے مطابق پیرل کو ان کارروائیوں کے بدلے کرپٹو کرنسی ملی۔ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے نظریاتی محرکات اور صیہونیت کی مخالفت میں ایران کی خدمت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔