سفارت کاروں نے جمعرات کو روئٹرز کو بتایا کہ ایران اور یورپی ممالک کے درمیان معاہدے کے بغیر پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو روکنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ روس اور چین نے جمعرات کو ایک قراردادکا مسودہ  پیش کر کے ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کے ممکنہ نفاذ میں تاخیر کے لیے ایک نئی کوشش کا آغاز کیا ہے۔  مغربی سفارت کاروں کے مطابق دونوں ممالک نے جمعرات کو سلامتی کونسل سے ایک مسودہ قرارداد پر ووٹنگ کے لیے کہا ہے، جس میں ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کو چھ ماہ کے لیے ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں جمعہ کو رات 8 بجے دوبارہ لگائی جائیں گی۔ 

 اس قرارداد کی منظوری کے لیے، کم از کم نو ووٹوں کی ضرورت ہے، اور امریکہ، برطانیہ یا فرانس کا ویٹو نہ کرنا بھی ضروری ہے۔ سفارت کاروں نے جمعرات کو روئٹرز کو بتایا کہ ایران اور یورپی ممالک کے درمیان معاہدے کے بغیر پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو روکنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ گزشتہ جمعے کو ویانا میں قائم بین الاقوامی تنظیموں کے لیے روس کے نمائندے نے سلامتی کونسل کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیاں بحال کرنے کی قرارداد کی منظوری کے بعد ایرانی جوہری مسئلے کے حل کے لیے چین اور روس کی جانب سے "نئے نقطہ نظر" کی بات کی تھی۔انہوں نے اس منصوبے کی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا۔  

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کے خلاف پابندیاں ہٹانے کا سلسلہ جاری رکھنے کی قرارداد منظور کرنے میں ناکام رہی تھی۔ چین اور روس نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف لگائی گئی ثانوی پابندیوں کے پیش نظر ان پابندیوں کی واپسی سے ایرانی معیشت پر کوئی حقیقی اثرات مرتب نہیں ہوں گے لیکن مغربی ممالک ایران پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔چند ہفتے قبل تین یورپی ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط بھیج کر نام نہاد "ٹریگر میکانزم" کو فعال کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔

یہ طریقہ کار، جو  جوہری معاہدے کی شقوں میں سے ایک ہے اور سلامتی کونسل میں اس کی منظوری دینے والی قرارداد (قرارداد 2231)، ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیوں کی واپسی کا باعث بن سکتی ہے۔مغربی ممالک کے دعوے کی بنیاد یہ ہے کہ جے سی پی او اے سے امریکی انخلا کے بعد ایران کے اقدامات اس معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیے جاتے ہیں۔ امریکی انخلاء کے بعد، اسلامی جمہوریہ ایران نے یورپی ممالک کو جوہری معاہدے میں اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کے مطابق اس انخلاء کے اثرات کو بے اثر کرنے اور معاہدے میں وعدہ کردہ ٹھوس اقتصادی اثرات کو حاصل کرنے کے لئے ایک سال کا وقت دیا تھا۔

تاہم، "INSTEX" کے نام سے موسوم طریقہ کار، جس کے بارے میں یورپیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈالر کے بغیرتجارت کو آسان بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، اس کے ذریعے کوئی تبادلہ کیے بغیر، ناکام ہو گیا اور بند ہو گیا۔ اس کے مطابق، ایران نے جوہری معاہدے میں بیان کردہ قانونی عمل کی پیروی کرتے ہوئے، امریکی انخلا کے ایک سال بعد اعلان کیا کہ معاہدےکے آرٹیکل 26 اور 36 کی روشنی میں اپنی ذمہ داریوں کو مرحلہ وار کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایران کے اصلاحاتی اقدامات کے بعد یورپی ممالک نے بھی ایسے اقدامات کیے جنہیں تہران نے جوہری معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی خلاف ورزی سمجھا۔مثال کے طور پر، تین یورپی ممالک نے اکتوبر 2023 کو ایران کے خلاف میزائل پابندیاں ختم کرنے کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے انکار کر دیا، جسے جوہری معاہدےمیں "منتقلی دن" کے طور پررکھا کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کی نہ صرف مذمت نہیں کی تھی بلکہ ان کی حمایت بھی کی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی ایران کے خلاف سلامتی کونسل جوہری معاہدے نے جمعرات کو پابندیوں کے یورپی ممالک ممالک نے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل