ڈیوس اسٹارٹ اپ چیلنج 2026 کے لیے پاکستانی اسٹارٹ اپس کو تیار کرنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان کے ابھرتے ہوئے ٹیک ایکو سسٹم کو بااختیار بنانے کے لیے ایک تاریخی اقدام میں، سیٹاڈل پاتھ فائنڈر اسکول آف ایکسیلنس نے پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں۔ اس اسٹریٹجک شراکت داری کا مقصد ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس 2026 میں ہونے والے ڈیوس اسٹارٹ اپ چیلنج کے ذریعے اسٹارٹ اپس کی مارکیٹنگ، تربیت، اور عالمی سطح پر متعارف کرانا ہے۔یہ مفاہمتی یادداشت کراچی کے ایکسپو سینٹر میں ایک شاندار تقریب کے دوران طے پائی، جو ہنر کی ترقی، جدت، اور معاشی بااختیاری کے مشترکہ عزم کو اجاگر کرتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت، سیٹاڈل پاتھ فائنڈر کے مضبوط رہنمائی پروگرامز کو P@SHA کے وسیع صنعتی نیٹ ورک اور وسائل کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔ اس تعاون سے منتخب اسٹارٹ اپس کو رہنمائی اور بین الاقوامی نمائش حاصل ہوگی، جو جنوری 2026 میں ڈیوس میں ان کی سرمایہ کاروں کو پریزینٹیشن کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔”یہ مفاہمتی یادداشت پاکستان کی نوجوان نسل کو عالمی ٹیک لیڈرز میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے،” اکرم سہگل، چیئرمین پاتھ فائنڈر گروپ نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ “سیٹاڈل پاتھ فائنڈر جدت کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے جو ملازمتوں کی تخلیق اور معاشی ترقی کو آگے بڑھاتی ہے۔ P@SHA کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے، ہم نہ صرف ہنرمند بنا رہے ہیں بلکہ ڈیوس سے شروع ہونے والی عالمی معیشت تک پاکستان کے لئے ایک پل بھی تعمیر کر رہے ہیں۔”
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔