ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں فوری سرمایہ لگانے کا کہا ہے،وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250928-01-7
نیوجرسی ( مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں فوری
سرمایہ کاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ نیو جرسی میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکا نے پاکستان میں آئی ٹی، توانائی، زراعت اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی آمادگی ظاہر کی ہے جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو فوری طور پر پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہدایت دی ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی بہتری کے لیے نہایت مفید اور اہم رہی۔ صدر ٹرمپ امن چاہتے ہیں اور ماضی میں پاک بھارت جنگ بندی کے قیام میں بھی ان کا کردار قابلِ تعریف رہا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات کو نئی جہت دی جا رہی ہے، دونوں ممالک کے درمیان معدنی وسائل کی قیمت کے منصفانہ تعین اور باہمی مفادات پر مبنی تجارتی معاہدوں پر بات چیت ہوئی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے اور ڈیڑھ سال میں مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے۔ بنگلا دیش کے ساتھ تعلقات میں بھی مسلسل بہتری آ رہی ہے اور تجارت و سفارت دونوں سطحوں پر مثبت پیش رفت جاری ہے۔قبل ازیں وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور انٹیلی جنس تعاون پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم نے سیکورٹی شعبے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور پاک امریکا تجارتی معاہدے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کے ساتھ کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ دنیا کو مل کر مزید موسمیاتی مالی وسائل متحرک کرنے چاہئیں، جموں و کشمیر تنازع کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پرامن حل تلاش کیا جائے۔ وزیراعظم نے بین الاقوامی امن و استحکام کے فروغ اور ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مؤثر بنانے میں سیکرٹری جنرل کی شاندار قیادت اور اقوامِ متحدہ کے کردار کو سراہا۔ وزیراعظم نے پاکستان کے لیے اہم قومی و علاقائی مسائل پر بھی بات کی، جن میں جموں و کشمیر تنازعہ، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں اور پاکستان میں بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی شامل ہیں۔ وزیراعظم نے غزہ کی سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ناقابل واپسی سیاسی عمل شروع کرنے کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے اس عزم کو بھی دہرایا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
وزیراعظم
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں شہباز شریف کہ پاکستان کرتے ہوئے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔