Jasarat News:
2026-07-24@04:56:39 GMT

وزیراعظم کا اقوام متحدہ سے خطاب

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کئی اہم نکات اجاگر کیے۔ ان کے خطاب میں جہاں پاکستان کی دفاعی کامیابیوں اور خطے میں امن کے قیام کی خواہش کا اظہار تھا، وہیں فلسطین، کشمیر، موسمیاتی تبدیلی، اسلاموفوبیا اور معاشی اصلاحات جیسے موضوعات بھی شامل تھے۔ بظاہر یہ ایک اس طرح کے فورم میں ہونے والی تقریروں کی طرح تھی، لیکن دراصل یہ پاکستان کے موقف اور امت مسلمہ کے اجتماعی درد کی عکاس تھی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف بیانات اور قراردادیں کافی ہیں؟ یا وقت اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ پاکستان اور امت مسلمہ عملی اقدامات کی طرف بڑھیں؟ پاکستان اس وقت عالم میں اہمیت کا حامل ملک ہے اس کی اسٹرٹیجک حقیقت مسلّم ہے۔ برصغیر، مشرق وسطیٰ، وسط ایشیا اور چین کے درمیان واقع پاکستان عالمی سیاست کا محور ہے۔ اس کی ایٹمی صلاحیت اور دنیا کی بہترین افواج میں شامل عسکری ڈھانچہ اسے خطے اہم بناتا ہے۔ وزیراعظم کا یہ دعویٰ کہ پاکستان جنگ جیت چکا ہے اور اب امن چاہتا ہے، اپنی جگہ درست ہے، لیکن امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب بھارت بھی حقیقت کو تسلیم کرے۔ کشمیر کی جدوجہد ِ آزادی کو کچلنا اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی دہلی امن نہیں بلکہ بالادستی چاہتا ہے۔ پاکستان کو دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ جنوبی ایشیا میں امن کی کنجی صرف مذاکرات نہیں بلکہ انصاف ہے۔ وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی یاد دہانی کرائی۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر محض ایک سرحدی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بھارت کی ہندوتوا پالیسی کشمیری عوام کو جبر و استبداد کے ذریعے غلام بنانا چاہتی ہے۔ پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کی آواز کو عالمی پلیٹ فارم پر مزید بلند کرے۔ جب تک بھارت ظلم سے باز نہیں آتا، جامع مذاکرات کی بات ادھوری رہے گی۔ امن کی شرط انصاف ہے اور انصاف کے بغیر کوئی پائیدار امن ممکن نہیں۔ وزیراعظم نے فلسطین کے مسئلے پر موثر انداز میں بات کی اور اسرائیل کی نسل کشی کو تاریخ کا بدترین باب قرار دیا۔ غزہ کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی حالت ِ زار ہمارے دور کے سب سے دل دہلا دینے والے المیوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طویل ناانصافی عالمی ضمیر پر ایک گہرا داغ اور ہماری اجتماعی اخلاقی ناکامی ہے، تقریباً اسّی برسوں سے فلسطینی اپنی سرزمین پر اسرائیل کے ظالمانہ اور جابرانہ قبضے کا بہادری سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ مغربی کنارے میں غیرقانونی آباد کار بلاخوف و خطر روزانہ فلسطینیوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں اور کوئی ان سے بازپْرس کرنے والا نہیں ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ غزہ میں جو تباہی جاری ہے، وہ نسل کشی کے زمرے میں آتی ہے؛ عورتیں اور بچے جان بوجھ کر نشانہ بنائے جا رہے ہیں، اور یہ ظلم ایسے پیمانے پر ہے جس کی نظیر تاریخ کے تاریک اور ناقابل ِ فراموش ابواب میں ملے گی۔ انہوں نے 6 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی مثال دے کر دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی، جو اپنے خاندان کے ساتھ غزہ سے جاتے وقت شہید ہوئی، ہند رجب کی کہانی اس جنگ کے سب سے دلخراش مناظر میں سے ایک بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم سب نے اْس فون کال میں اس کی کانپتی ہوئی آواز سنی تھی، جب ننھی ہند نے اسرائیلی حملے کے دوران زندہ رہنے کی جدوجہد میں مدد مانگی تھی‘‘۔ اپنے خطاب کو جذباتی انداز میں جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مخاطب سے سوال کیا ’’کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ وہ ننھی ہند ہماری بیٹی ہوتی؟ ہم اسے بچانے میں ناکام رہے، اور یہ ناکامی ہمیں اس دنیا میں اور آخرت میں معاف نہیں ملے گی‘‘۔ لیکن یہاں پاکستان اور عالم اسلام کو ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا۔ فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہے، اور اصل حل صرف اسی وقت ممکن ہے جب یہ ناجائز قبضہ ختم ہو۔ دو ریاستی حل کی گردان دراصل مسئلے کو طول دینے کی سازش ہے۔ اسلامی ممالک کو اب یہ طے کر لینا ہوگا کہ ’’ابھی نہیں یا کبھی نہیں‘‘ کے تحت اسرائیل کے غاصبانہ وجود کو مزید قبول نہیں کیا جائے گا۔ فلسطین کی آزادی امت مسلمہ کی اجتماعی ذمے داری ہے، اور اگر آج بھی مسلمان ممالک عملی اقدامات نہ کریں تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ وزیراعظم نے ترکیہ، سعودی عرب، ایران، چین اور دیگر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ملنے ملانے کے باوجود امت مسلمہ آج اپنے اپنے مفادات کے باعث بکھری ہوئی ہے۔ باہمی اختلافات اور داخلی کمزوریوں نے اسے کمزور کر دیا ہے۔ فلسطین، کشمیر اور دیگر مسائل پر مسلمانوں کے پاس قراردادیں تو ہیں مگر عملی لائحہ عمل نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اسلامی ممالک ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں، اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کریں، کشمیر پر بھارت پر دباؤ بڑھائیں اور عالمی سطح پر ایک متفقہ حکمت عملی اپنائیں۔ امت مسلمہ اگر اب بھی بیدار نہ ہوئی تو آنے والی نسلیں اس کی کمزوری کو ناقابل ِ معافی جرم سمجھیں گی۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے درست نشاندہی کی کہ پاکستان گلوبل وارمنگ میں ایک فی صد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے لیکن اس کے باوجود دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ 2022 کے سیلاب نے اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی برادری کے سامنے ماحولیاتی انصاف کا مقدمہ مزید شدت سے لڑے۔ لیکن ساتھ ہی داخلی سطح پر شفافیت اور وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ دنیا کو یہ دکھانا ہوگا کہ پاکستان صرف امداد کا خواہاں نہیں بلکہ اصلاحات اور اقدامات کے ذریعے اپنی ذمے داری بھی نبھا رہا ہے۔ وزیراعظم نے بجا طور پر کہا کہ افغانستان کا امن پورے خطے کے امن سے جڑا ہوا ہے۔ دہشت گرد گروہوں کے خاتمے اور انسانی حقوق کے احترام کے بغیر افغانستان مستحکم نہیں ہو سکتا۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کے لیے کردار ادا کیا ہے لیکن عالمی طاقتوں کو بھی اپنی ذمے داری ادا کرنا ہوگی۔ خطے کی پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب افغانستان سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ وزیرعظم نے اسلاموفوبیا اور بھارت کی ہندوتوا پالیسی پر بھی بات کی۔ یہ حقیقت ہے کہ مغربی دنیا میں اسلام کے خلاف نفرت انگیز رجحانات اور بھارت میں مسلمانوں پر مظالم عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان کو او آئی سی کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ میں ایسی قانون سازی کی مہم چلانی چاہیے جو اسلاموفوبیا کو عالمی جرم کے طور پر تسلیم کرے۔ مسلمانوں کو اپنے عقیدے کے تحفظ کے لیے متحد ہونا ہوگا، ورنہ یہ نفرت آگے چل کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ وزیراعظم نے معاشی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور کرپٹو کرنسی کی بات کی۔ یہ سب جدید تقاضے ہیں اور خوش آئند بھی، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب تک کرپشن، نااہلی اور بدانتظامی ختم نہیں ہوگی، کوئی بھی اصلاح دیرپا نہیں ہوسکے گی۔ قوم کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ اصل تبدیلی طاقتور کو قانون کے تابع کرنے اور شفاف حکمرانی کے قیام میں ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب کئی حوالوں سے اہم اور جامع تھا۔ اس نے پاکستان کے مؤقف کو دنیا کے سامنے رکھا اور امت مسلمہ کے دکھوں کی عکاسی کی۔ مگر اب اصل امتحان تقریر کے بعد شروع ہوتا ہے۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو قائداعظم کے وژن کے مطابق جرأت مند اور فعال بنانا ہوگا۔ فلسطین اور کشمیر پر غیر متزلزل موقف کے ساتھ کچھ آگے بڑھنا ہوگا۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ پاکستان کو کہ پاکستان نہیں بلکہ انہوں نے یہ ہے کہ ہوگا کہ کے ساتھ

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم