اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلینس (MCE) کے زیرِ اہتمام ’’بحرِ ہند کے خطے میں سٹریٹیجک صف بندی: ایک سال بعد بدلتے رجحانات کا جائزہ‘‘ کے موضوع پر دوسری کانفرنس پاکستان نیوی وار کالج، لاہور میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں بحرِ ہند کے بدلتے سٹریٹیجک منظرنامے، بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی، ابھرتی ٹیکنالوجی کے اثرات اور پاکستان کی لچکدار حکمتِ عملیوں پر غور کیا گیا۔سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات (ریٹائرڈ) نے خطاب کرتے ہوئے کہا  پاکستان کے خلاف سمندر کی سمت سے کوئی شرپسندی یا جارحیت کی گئی یا اس کی منصوبہ بندی ہوئی تو اس کے نتائج کی ذمہ داری براہِ راست بھارت کے کندھوں پر ہوگی۔ اس بارے میں کوئی ابہام نہیں رہنا چاہیے۔  پاکستان کا ردِعمل فوری، غیر متوقع اور مؤثر ہوگا۔ سابق وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے بحرِ ہند میں ابھرتے ہوئے سمندری چیلنجز پر بات کرتے ہوئے سفارتی بصیرت، علاقائی تعاون اور کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔قبل ازیں، صدر MCE اور کمانڈنٹ پاکستان نیوی وار کالج ریئر ایڈمرل سہیل احمد عزمی نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور بحرِ ہند کے خطے کی سٹریٹیجک اہمیت، اور بین الاقوامی تنازعات کے تناظر میں موجودہ چیلنجز پر روشنی ڈالی۔دیگر مقررین میں مشیر نیشنل کمانڈ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل خالد احمد کدوائی (ریٹائرڈ) سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری‘ وائس ایڈمرل خان حشام بن صدیق (ریٹائرڈ) ‘وائس ایڈمرل احمد سعید (ریٹائرڈ)  ایئر مارشل جاوید احمد (ریٹائرڈ)‘ ڈاکٹر سلمہ ملک‘ ریئر ایڈمرل فیصل علی شاہ (ریٹائرڈ) اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سٹریٹیجک ویژن انسٹیٹیوٹ بریگیڈیئر ڈاکٹر نعیم سالک (ریٹائرڈ) شامل تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم